۱؎ یہ بہز اوران کے والد حکیم دونوں تابعی ہیں،ہاں بہز کے دادا معاویہ ابن عیدہ صحابی ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد بصرہ میں رہے،خراسان میں وفات پائی،یہاں جدہ کا مرجع بہز ہیں یعنی حکیم نے اپنے والد جو بہز کے دادا ہیں،ان سے روایت کی لہذا حدیث متصل ہے(اشعہ)
۲؎ صحیح یہ ہے کہ یہاں حفاظت سے مراد بے پردگی سے حفاظت ہے یعنی اپنی بیوی اور مملوکہ لونڈی سے تو پردہ نہیں باقی تمام سے ستر چھپانا واجب ہے اس کی مؤید وہ آیت کریمہ ہے"وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوٰجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ"۔معلوم ہوا کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوسکتے ہیں
۳؎ یعنی اﷲ تعالٰی اپنے بندہ کا برہنہ ہونا پسند نہیں کرتا اور وہ تو تم کو برہنگی کی حالت میں دیکھ رہا ہے لہذا اس کے فرمان کی مخالفت سے شرم کرو۔حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ رب تعالٰی کپڑے پہنے ہوئے کا ستر نہیں دیکھتا کپڑا اس کے لیے آڑ بن جاتا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ تنہائی میں بھی بلاوجہ برہنہ نہ رہے۔
۴؎ یہ حدیث احمد،بیہقی،حاکم وغیرہم نے بھی کچھ فرق سے روایت فرمایا۔