| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ وہ اور بی بی میمونہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھیں ۱؎ کہ جناب ام مکتوم آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم دونوں ان سے پردہ کرو ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا یہ نابینا نہیں ہیں کہ ہم کو دیکھتے نہیں،۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو اور کیا تم ان کو نہیں دیکھتیں ۵؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جناب ام سلمہ کے گھر میں رونق افروز تھے اور بی بی میمونہ ملنے کے لیے وہاں آئی ہوئی تھیں۔اسی لیے لفظ میمونہ کو معطوف فرمایا اور معطوف علیہ سے اس کا کچھ فاصلہ کردیا۔جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیۡتِ وَ اِسْمٰعِیۡلُ" تاکہ معلوم ہو بنائے کعبہ میں ابراہیم علیہ السلام اصل تھے اور حضرت اسماعیل ان کے معاون۔ ۲؎ آپ وہ ہی عبدا ﷲ ابن ام مکتوم ہیں جن کے متعلق سورۂ عبس شریف نازل ہوئی آپ اجازت لے کر دولت خانہ میں حاضر ہوئے۔ ۳؎ یا تو حضرت عبداﷲ کے اندر آتے وقت اندر پہنچنے سے پہلے حضور انور نے یہ حکم دیا یا آپ پہلے داخل ہو گئے داخل ہوتے ہی یہ فرمایا پہلااحتمال زیادہ قوی ہے کہ پہلے پردہ کرایا جاتا ہے پھر آنے والے کو بلایا جاتا ہے۔ ۴؎ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مرد کو حرام ہے کہ اجنبی عورت کو دیکھے،عورت کے لیے اجنبی عورت کو دیکھنا حرام نہیں،اور حضرت عبداﷲ تو نابینا ہیں ہم کو دیکھتے نہیں پھر ہم پردہ کیوں کریں۔ ۵؎ جواب عالی کا مقصد یہ ہے کہ عورت و مرد پر دو طرفہ پردہ واجب ہے کہ نہ تو مرد اجنبی عورت کو دیکھے نہ اجنبی عورت مرد کو۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء کا فرمان ہے کہ عورت بھی اجنبی مرد کو نہیں دیکھ سکتی، بعض نے فرمایا کہ دیکھ سکتی ہے ان کی دلیل حضرت عائشہ صدیقہ کی وہ روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں حبشیوں کا کھیل دکھایا،اس طرح حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم خود پردہ ہو کر آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے کہ کوئی مرد تو آپ کو نہ دیکھ سکا،مگر آپ حبشیوں اور ان کے کھیل کو دیکھتی رہیں،یہ کھیل دکھانے کا واقعہ ۷ھ میں ہوا جب کہ جناب عائشہ کی عمر شریف سولہ سال تھی اور پردہ کا حکم آچکا تھا،نیز نماز جماعت میں عورتوں کو حاضری کا حکم تھا مردوں سے علیحدہ ہو کر نماز پڑھتی تھیں مردوں سے پیچھے رہتی تھیں کہ مرد تو ان کو نہ دیکھ سکتے تھے مگر بیویاں یقینًا اپنے سے آگے کے مردوں کو دیکھ سکتی تھیں لہذا حق یہ ہے کہ حضرت عائشہ کی حدیث بیان جواز کے لیے ہے اور یہ حدیث بیان احتیاط کے لیے یہ تمام تحقیق ان پاک باز کے متعلق ہے جہاں بے حیائی کا خیال بھی نہ پیدا ہو،لیکن اگر اس کا خدشہ ہو تو عورت کا مردوں کو دیکھنا بھی سخت حرام ہے۔(از لمعات،و مرقات،واشعہ مع زیادۃ)