۱؎ یہ دونوں ضمیریں قاتل کی طرف لوٹتی ہیں یعنی قاتل کا سر مقتول کے ایک ہاتھ میں ہوگا اور قاتل کی پیشانی کے بال دوسرے ہاتھ میں جب کسی چیز کو مضبوط پکڑنا ہو تو ایسے ہی دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہیں،یہاں سختی گرفت دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا۔
۲؎ اوداج جمع ہے ودجٌ کی یا ودجان کی،یہ گردن کے آس پاس دو رگیں ہوتی ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے ذبح میں یہ ہی رگیں کاٹی جاتی ہیں،یہ جمع بمعنے تثنیہ ہے جیسے"فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"میں قلوب جمع بمعنی تثنیہ ہے۔
۳؎ مطلب یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں قتل کا مقدمہ بہت اہتمام سے پیش ہوگا اور خاص طور پر سنا جائے گا لہذا قتل مؤمن سے بچو۔