۱؎ آسمان والوں سے مراد ان انسانوں کی روحیں ہیں جو یہاں فوت ہوچکے یا جو ابھی دنیا میں آئی نہیں۔مقصد یہ ہے کہ قتل ایسا جرم ہے کہ ایک قتل کی وجہ سے بہت کو عذاب ہوسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک شخص کو چند آدمی مل کر قتل کریں تو سب کو قتل کیا جائے گا۔اژدہام کے قتل کا اور حکم ہے جہاں جماعتیں لڑیں اور دو طرفہ آدمی ماریں جائیں پتہ نہ لگے کہ کون کس کا قاتل ہے جسے عربی میں قتل عمیہ کہتے ہیں لہذا حدیث واضح ہے۔خیال رہے کہ جان نکالنے والے فرشتے اﷲ کے حکم سے جان نکالتے ہیں کسی کو ظلمًا قتل نہیں کرتے لہذا وہ اس حکم سے خارج ہیں،آج حاکم اسلام قانون اسلامی کے ماتحت بہت لوگوں کو قتل کراتا ہے،جلاد حاکم کے حکم سے مجرم کو قتل کرتا ہے۔
۲؎ بعض روایات میں بجائے لا کبھم لکبھم ہے کیونکہ کب کے معنے ہیں اوندھا ڈالا اور اکب کے معنے ہیں اوندھا گرا،یہ ایسا لفظ ہے کہ مجرد میں متعدی ہے باب افعال میں آکر لازم،لکبت لغت میں یوں ہی ہے لیکن اگر حضور کے فرمان میں لاکبہم ہو تو لغت جھوٹی ہے حضور سچے ہیں۔(اشعہ و مرقات)غرضکہ لغت قرآن و حدیث کے تابع ہیں قرآن و حدیث لغت کے تابع نہیں۔