روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دنیا کا مٹ جانا اﷲ کے ہاں آسان ہے مسلمان آدمی کے قتل سے ۱؎ (ترمذی، نسائی)اور بعض نے اسے موقوف بیان کیا۲؎ وہ ہی زیادہ صحیح ہے۔ اور اسے ابن ماجہ نے براء ابن عازب سے روایت کی۔
شرح
۱؎ یہاں مسلم سے مراد مرد مؤمن عارف باﷲ ہے یعنی ایک عارف باﷲ کا قتل ساری دنیا کی بربادی سے سخت تر ہے کیونکہ دنیا عارفین ہی کے لیے تو بنی ہے تاکہ وہ اس میں غوروفکر کرکے عرفان میں اضافہ کردیں اور یہاں اعمال کرکے آخرت میں کمال حاصل کریں،دولہا کی ہلاکت بارات کی ہلاکت سے سخت تر ہے کہ مقصود برات وہ ہی ہے۔ ۲؎ یعنی خود سیدنا عبداﷲ ابن عمر کا اپنا قول نقل فرمایا،یہ ہی صحیح تر ہے لیکن ایسی موقوف حدیث حکمًا مرفوع ہوتی ہے کیونکہ محض عقل و قیاس سے ایسی بات نہیں کہی جاسکتی۔