| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ۲؎ تو فرمایا اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور جان پیدا کی ہمارے پاس کچھ نہیں سوائے اس کے جو قرآن میں ہے۳؎ سوائے اس سمجھ کے جو کسی شخص کو دی جائے کتاب اﷲ میں۴؎ اور وہ جو اس صحیفہ میں ہے ۵؎ میں نے پوچھا کہ صحیفہ میں کیا ہے فرمایا دیت اور قیدی کو چھوڑانا۶؎ اور یہ کہ مسلمان کافر کے عوض نہ قتل کیا جائے ۷؎(بخار ی)اور حضرت ابن مسعود کی حدیث لا تقتل نفس ظلمًا،الخ کتاب العلم میں ذکر کردی گئی ۸؎
شرح
۱؎ آپ کا نام وہب ابن عبداﷲ ہے،عامری ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کی ہے مگر بہت بچپن میں،حضور کے وصال شریف کے وقت بہت کمسن تھے،کوفہ میں قیام رہا،حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں آپ کی طرف سے افسر مال رہے،وہاں ہی ۷۴ھ میں وفات پائی،حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے آپ سے بہت روایات ہیں۔ ۲؎ زمانہ حیدری میں روافض پیدا ہوچکے تھے انہوں نے مشہور کررکھا تھا کہ حضرت علی کہ پاس قرآن کریم کے علاوہ اور صحیفے اور خصوصی اسرار الہیہ ہیں جوکسی کے پاس نہیں اس لیے اکثر لوگ جناب علی مرتضیٰ سے ایسے سوالات کرتے تھے۔عندکم میں خطاب تمام اہل بیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے جن کے امیر حضرت علی ہیں۔(مرقات)یعنی آپ کے یا آپ کے خاندان والوں کے پاس کوئی خصوصی چیز ہے جو عام مسلمانوں کو نہ دی گئی ہو۔ ۳؎ مافی القرآن میں حدیث شریف بھی داخل ہے کیونکہ حدیث شریف قرآن مجید کی شرح اور اس کی تفسیر ہے۔ ۴؎ یعنی رب تعالٰی نے مجھے قرآن مجید کی سچی اچھی فہم عطا فرمائی ہے جس سے میں ایسے قرآنی نکات نکال لیتا ہوں جو تم کو معلوم نہیں ہوتے۔اس فرمان عالی سے اجتہاد استنباط اور فقہ کا ثبوت ہوا کہ فہم قرآن اﷲ کی بڑی نعمت ہے۔ ۵؎ یعنی ہاں ان اوراق میں کچھ شرعی احکام ہیں جو شاید تمہارے پاس نہ ہوں،یہ کوئی خاص اسرار نہیں جوکسی کو بتائے نہ جائیں۔ ۶؎ یعنی اس صحیفہ اور اوراق میں قتل خطاء وغیرہ کی دیت و خون بہا کے کچھ احکام ہیں کہ کس جرم کی دیت کتنی ہے اور یہ حکم ہے کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان قیدیوں کو آزاد کرو،مقروضوں کی امداد کرو،مکاتبین کا بدل کتابت ادا کرو کہ یہ سب قیدی چھوڑانے کی صورتیں ہیں۔ ۷؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی وغیرہم فرماتے ہیں اگر مسلمان کسی کافر کو قتل کردے تو اس کے عوض مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا بلکہ اس کی دیت دلوائی جائے گی مگر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہیں ان کے قتل سے مسلمان پر قصاص نہیں،رہےذمی کفار اور مستامن جو ہماری امان میں ہمارے ملک میں رہتے ہوں یا باہر سے آئے ہوں ان کو اگر مسلمان قتل کردے تو قصاص لیا جائے گا کیونکہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فدماءھم کدمائنا و اموالہم کاموالنا ان ذمیوں مستامنوں کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں اور ان کے مال ہمارے مالوں کی طرح ہیں اسی لیے اگر مسلمان چور کافر ذمی کا مال چرالے تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے،نیز عبدالرحمن بن سلمان نے روایت کی کہ حضور کے زمانہ شریف میں ایک مسلمان نے کسی ذمی کو قتل کردیا تو حضور نے اسے قتل کرایا،وہ احادیث پاک کی شرح ہے۔ ۸؎ یعنی وہ حدیث کہ نہیں قتل کیا جاتا کوئی نفس مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے قابیل کا اس میں حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے ظلمًا قتل ایجاد کیا مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم مناسبت سے کے لحاظ سے کتاب العلم کے شروع میں رکھی۔