| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ربیع نے جو انس ابن مالک کی پھوپھی ہیں ۱؎ ایک انصاری عورت کا دانت توڑ دیا ۲؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی حضور نے قصاص کا حکم دیا تو انس ابن نضر جو انس ابن مالک کے چچا ہیں عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اس کا دانت واﷲ نہ توڑا جائے گا۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے انس اﷲ کی تحریر قصاص ہے ۴؎ پھر قوم راضی ہوگئی اور دیت قبول کرلی ۵؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ کے بندوں میں وہ ہیں کہ اگر اﷲ پر قسم کھالیں تو اﷲ تعالٰی ان کی قسم پوری کرے ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ ربیع ر کے پیش ب کے کسرہ ی کے شدوکسرہ سے بنت نضر انصاریہ ہیں،حارثہ بنت سراقہ کی والدہ صحابیہ ہیں،انس ابن مالک ابن نضر کی پھوپھی،مالک ابن نضر کی بہن۔ ۲؎ ثنیہ وہ دانت ہے جو رباعی دانتوں اور کیلوں کے درمیان ہے اس کی جمع ثنایا آتی ہے۔ ۳؎ یعنی رب کی قسم مجھے اﷲ تعالٰی کے کرم سے امید قوی ہے کہ وہ اس لڑکی اور اس کے وارثوں کو دیت لینے پر راضی کردے گا ان کے دل میں رحم ڈال دے گا اور میری بہن ربیع قصاص سے بچ جائے گی،اس میں حضور کے فرمان کا انکار نہیں ورنہ کفر لازم آتا ہے اور ان پر سختی کی جاتی۔ ۴؎ یعنی حکم شرعی تو یہ ہی ہے کہ قصاص لیا جائے کہ دانت کے عوض دانت توڑا جائے وہ لڑکی معاف کردے اور اس کے عزیز راضی ہوجائیں ان کی خوشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ" اور فرماتاہے: "السِّنَّ بِالسِّنِّ"۔ ۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی اپنے مقبول بندوں کی قسم پوری کردیتا ہے ان بزرگوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ربیع کے دانت نہ توڑے جائیں گے رب تعالٰی نے ان کی قسم پوری فرمادی اور دیت پر صلح کرادی،یہ ہے لو اقسم علی اﷲ لابرہ کا ظہور۔ ۶؎ اس میں انس ابن نضر کی تعریف ہے کہ تم اﷲ تعالٰی کے ایسے مقبول بندے ہو کہ رب تعالٰی پر قسم کھا جاؤ تو رب تعالٰی تمہاری قسم پوری فرمادے،دیکھو تم نے قسم کھالی تھی رب تعالٰی نے پوری کردی اور ممکن ہے کہ دیت قبول کرلینے والوں کی تعریف ہو کہ یہ لوگ ایسے نیک ہیں اور انہوں نے اس وقت ایسا نیک کام کیا ہے کہ اگر یہ آئندہ رب تعالٰی پر قسم کھالیں تو رب تعالٰی ان کی قسم پوری فرمادے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں شفاعت اور سفارش کرنا بہتر ہے اور عورت سے بھی قصاص لیا جائے گا اور اگر دانت پورا توڑ دیا جائے تو اس میں قصاص ہے۔دانت کا ٹکڑا توڑ دینے میں آئمہ کا اختلاف ہے،ہڈی توڑ دینے کے قصاص میں بہت تفصیل ہے اگر دیکھنا ہو تو کتب فقہ کا مطالعہ کرو۔