| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا ۱؎ تو اس سے کہا گیا کہ تیرے ساتھ یہ حرکت کس نے کی کیا فلاں نے کی یا فلاں نے حتی کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کردیا ۲؎ پھر یہودی کو لایا گیا اس نے اقرار کرلیا ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو اس کا سر پتھروں سے کچل دیا گیا۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ رض کے معنے ہیں دلنا یا کچلنا اسی لیے دال کو رضاض اور دلیہ کو رضیض کہا جاتا ہے کہ دال تو دلی جاتی ہے دلیہ کچلا جاتا ہے۔ ۲؎ اشارۃً ہاں کا اقرار کیا۔معلوم ہوا کہ لڑکی کے ہوش قائم تھے زبان بند ہوچکی تھی،اب بھی قریب الموت زخمی سے پولیس آخری بیان لیتی ہے اس کا ماخذ یہ ہے۔ ۳؎ اس اقرار کرانے سے معلوم ہوا کہ صرف مریض کے الزام سے قصاص نہ ہوگا اس کے لیے یا دو گواہ ہوں یا ملزم کا اقرار اگر یہودی اس وقت انکار کرتا تو اس سے قسم لی جاتی۔ ۴؎ اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ بھاری چیز سے مار ڈالنے پر قصاص ہے،قصاص کے لیے صرف دھار دار آلہ سے مارنا شرط نہیں،یہ ہی قول ہے امام مالک و شافعی کا اور ہمارے آئمہ میں سے صاحبین کا مگر امام اعظم کے ہاں اس میں قصاص نہیں،قصاص تلوار،چاقو،نیزہ وغیرہ سے قتل کرنے میں ہے۔امام صاحب اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ حضور کا یہ عمل شریف سیاسۃً یعنی ملکی انتظام کے لیے بطور تعزیر تھا قصاص نہ تھا اب بھی حاکم تعزیرًا یہ کرسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ قصاص میں نوعیت قتل کا لحاظ رکھا جائے کہ جس طرح قاتل قتل کرے اسی طرح حاکم اس کو قتل کرکے قصاص لے،یہ بھی قول امام شافعی کا ہے،امام اعظم کے ہاں قاتل کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا اس نے کسی طرح قتل کیا ہو،ورنہ جو شخص چھوٹی بچی کو زنا کرکے قتل کردے وہاں مساوات قتل کیوں کر ہوگی،یہ قتل قصاصًا نہ تھا بلکہ سیاسۃً تھا اس لیے نوعیت قتل میں برابری کی گئی۔خیال رہے کہ امام مالک کے ہاں صرف مقتول کے قول پر ہی قصاص لینا جائز ہے جمہور علماء کے ہاں نہیں،یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے۔تیسرے یہ کہ عورت کا قصاص مرد سے لیا جائے گا۔