Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
372 - 1040
حدیث نمبر372
روایت ہے حضرت ابو شریح کعبی سے ۱؎  وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا پھر تم ہو اے خزاعہ کہ تم نے ہزیل کے اس مقتول کو یقینًا قتل کیا ہے۲؎ اور اﷲ کی قسم اس کی دیت میں دوں گا۳؎ اس کے بعد جو کوئی کسی مقتول کو قتل کرے تو اس کے ورثا کو دو اختیار ہوں گے۴؎ اگر چاہیں تو قاتل کو قتل کردیں اور چاہیں تو دیت لے لیں۵؎ (ترمذی،شافعی)اور شرح سنہ میں ان کی اسناد سے ہے ۶؎ اور تصریح فرمائی کہ مسلم،بخاری میں ابو شریح سے روایت نہیں ۷؎اور فرمایا کہ مسلم،بخاری نے بروایت ابوہریرہ اس کی یعنی اس کے معنے کی روایت کی۸؎
شرح
۱؎ آپ کا نام خویلا ابن عمرو کعبی ہے،عدوی ہیں،خزاعی ہیں،فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے،  ۶۸ھ؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،اپنی کنیت میں مشہور ہیں۔(اکمال و مرقات)

۲؎ یہ کلام مبارک اس خطبہ شریف کا حصہ ہے جو حضور پر نور صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن بیت اﷲ شریف میں ارشاد فرمایا جو کتاب الحج باب حرم مکہ کی فصل اول میں مذکور ہوچکا۔قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی زمانہ جاہلیت میں بنی ہزیل کے ایک شخص کے ہاتھوں مارا گیا تھا تو خزاعہ نے فتح مکہ سے کچھ دن پہلے اس خون کا بدلہ لیتے ہوئے ہزیل کے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا یہاں اسی کا ذکر ہے۔

۳؎ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس مقتول کی دیت اپنے پاس سے دی تاکہ ان دو قبیلوں میں فتنہ نہ ہو۔خیال رہے کہ دیت یعنی خون بہا کو عربی میں عقل کہتے ہیں،عقل کے معنے ہیں روکنا،چونکہ یہ قتل کو روکنے والی چیز ہے لہذا عقل کہلاتی ہے اسی لیے رسّی کو عقال کہتے ہیں کہ وہ جانور کو بھاگنے سے روکتی ہے اور دانش و سمجھ کو عقل کہتے ہیں کہ وہ انسان کو بری باتوں سے روکتی ہے۔

۴؎ یعنی مقتول کے وارثوں کو یہ اختیار ملیں گے۔خیال رہے کہ یہ اختیار عمدًا قتل میں ہیں خطاء یا شبہ عمد قتل میں ان وارثوں کو قصاص لینے کا حق نہیں صرف دیت ہی لے سکتے ہیں۔

۵؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی و احمد و اسحاق نے فرمایا کہ قصاص کی طرح دیت کا اختیار بھی مقتول کے ورثاء کو ہے قاتل کو انکار کرنے کا حق نہیں مگر امام ابوحنیفہ و امام مالک فرماتے ہیں کہ دیت میں قتل کی رضا ضروری ہے اگر وہ قبول کرے تو دیت دے قبول نہ کرے تو قصاص دے،یہ ہی قول امام حسن و نخعی کا ہے،یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ اگر مقتول کے وارثوں میں سے ایک بھی دیت لینے پر راضی ہوجائے تو باقی وارثوں کو قصاص لینے کا حق نہیں رہتا اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر ان وارثوں میں کوئی غائب یا نابالغ ہو تو قصاص واجب نہیں جب تک کہ غائب آ نہ جائے اور بچہ بالغ نہ ہوجائے،ان وارثوں میں مرد عورت سب یکساں برابر کے مستحق ہیں۔

۶؎ یعنی صاحب مصابیح نے اپنی کتاب شرح سنہ میں بروایت شافعی یہ حدیث نقل فرمائی۔

۷؎  یہ صاحب مصابیح  پر اعتراض ہے   کہ باوجود یہ کہ خود  انہوں نے اپنے کتاب شرح سنہ میں  صاف بیان فرمایا کہ یہ حدیث مسلم و بخاری کی نہیں مگر پھربھی اسے مصابیح نے فصل اول میں بیان کردیا حالانکہ پہلی فصل میں مسلم یا بخاری کی روایت آنی چاہیے۔

۸؎  یہ عبارت اس اعتراض کی تکمیل ہے کہ یہ حدیث یہاں فصل اول میں نہ آ نی چاہیے۔
Flag Counter