Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
371 - 1040
حدیث نمبر371
روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب مدینہ پاک کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل ابن عمرو دوسی نے ۱؎ حضور کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے ہجرت کی ۲؎ پھر وہ بیمار ہوگئے تو گھبرا گئے تو انہوں نے اپنے تیر لیے ان سے اپنے پورے کاٹ لیے تو ان کے ہاتھ خون بہانے لگے ۳؎ یہاں تک کہ وہ مر گئے تو اسے طفیل ابن عمرو نے خواب میں دیکھا کہ ان کی حالت بہت اچھی ہے ۴؎ اور انہیں اپنے ہاتھ ڈھکے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ رب نے تم سے کیا معاملہ کیا؟ تو بولے کہ مجھے بخش دیا اپنے نبی کی طرف ہجرت کرنے کی برکت سے ۵؎ پھر پوچھا کہ کیا وجہ ہے میں تمہیں ہاتھ ڈھانپے دیکھ رہا ہوں ۶؎ بولے کہ مجھ سے فرمایا کہ جو تم نے خود بگاڑ لیا ہم اسے درست نہ کریں گے ۷؎ یہ خواب طفیل نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر بیان کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعا کی الٰہی اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ دوس ابن عبداﷲ کے قبیلہ سے ہیں اس لیے دوسی کہلاتے ہیں۔حضور کی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ آکر مسلمان ہوئے،پھر حضور نے انہیں حکم دیا کہ اپنی قوم میں تبلیغ کرو،آپ نے عرض کیا کہ مجھے حقانیت اسلام کی کوئی دلیل عطا فرمائی جائے،حضور نے دعا کی تو ان کی آنکھوں کے درمیان نور نمودار ہوگیا پھر وہ نور پیشانی سے منتقل ہوکر آپ کی لاٹھی میں آگیا اس لیےآپ کا لقب ذوالنور ہوا،پھرآپ مدینہ منورہ حضور کی خدمت میں حاضر رہے آخر حیات شریف تک ساتھ رہے،جنگ یمامہ      ۱۱ھ؁ میں شہید ہوئے،بعض نے فرمایا کہ عہد فاروقی میں جنگ یرموک میں آپ کی شہادت ہے۔(اشعہ)

۲؎ یعنی وہ شخص ان کی تبلیغ پر ایمان لایا ان کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگیا۔

۳؎ لغت میں شخب کے معنے ہیں دوھنے کے وقت دودھ جاری ہو،اب اصطلاح میں خون بہنے کو شخب کہا جاتا ہے،یہ ہی اصطلاحی معنے یہاں مراد ہیں۔

۴؎ لباس چٹا ہے چہرہ پر نور ہے بخشش کے آثارنمودار ہیں۔خیال رہے کہ میت کا سفید لباس،چہرہ کی سفیدی دیکھنا بخشش کی علامت ہے۔

۵؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضری اور حضور کو دیکھنا ساری عبادات سے افضل ہے اور بخشش کا وسیلہ عظمٰی،دیکھو ان صحابی کے پاس نمازیں روزے تمام عبادات تھیں مگر بخشش ہجرت کی برکت سے ہوئی،یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت میں حضور کی بارگاہ میں حاضری کی نیت کرنا ضروری ہے حالانکہ ہجرت عبادت ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"جب ہجرت میں حضور کی رضا کی نیت اعلیٰ ہے تو دیگر عبادات میں بھی رضائے مصطفوی کی نیت شرک نہیں۔

۶؎ یعنی باقی جسم کی طرح تمہارے ہاتھ کھلے ہوئے کیوں نہیں۔

۷؎ ظاہر یہ ہے کہ خود رب تعالٰی نے بلاواسطہ ان سے یہ فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ بواسطہ فرشتہ یہ کلام ہوا ہو۔

۸؎ خیال رہے کہ مؤمن کا خواب وحی الٰہی کا ایک حصہ ہے،خصوصًا جب کہ نبوت کی طرف سے اس کی تائید ہوجائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خودکشی کرنے سے دوزخ میں خلود نہیں بلکہ یہ گناہ بھی دوسرے گناہوں کی طرح قابل بخشش ہے۔یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے اور یقینًا اس دعا سے ان کا یہ قصور بھی معاف ہوگیا۔یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ جو فوائد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات شریف میں آپ کی زیارت سے میسر تھے وہ ہی فوائد حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر انور کی زیارت کے ہیں لہذا مؤمن کو ان فوائد کی امید رکھنی چاہیے۔اﷲ تعالٰی ہر مؤمن کو اور سب کے صدقے سے مجھ گنہگار کو روضہ اطہر کی زیارت مسجد نبوی شریف میں اعتکاف نصیب کرے۔
Flag Counter