۱؎ یعنی اکیلے میں بھی ستر نہ کھولو جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ ان سے مراد اعمال لکھنے والے اور محافظین فرشتے ہیں جو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ صرف کاتبین فرشتے مراد ہوں کیونکہ حافظین تو پاخانہ وغیرہ میں بھی ساتھ رہتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملائکہ شرمیلے ہیں انسان کا ستر دیکھنے میں شرم کرتے ہیں تو ہم کو بھی ان سے شرم چاہیے، اﷲ کے بندوں سے حیاء کرنا ایمانی تقاضا ہے۔
۳؎ اس لیے پاخانہ اور صحبت کے وقت بات کرنا منع ہے کہ بات لکھنے کے لیے کاتبین فرشتوں کو ہمارے پاس آنا پڑے گا اور وہ اس وقت پاس آنا نہیں چاہتے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر ضرورت ستر کھولنا ممنوع ہے۔اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ پاخانہ،پیشاب،بیٹھتے وقت کھڑے ہوتے وقت ننگا نہ ہوجائے بلکہ زمین کے قریب پہنچ کر کپڑا اٹھائے۔