۱؎ یعنی کل قیامت میں اس کا کلمہ تمہارے خلاف بارگاہِ الٰہی میں دعویٰ کرے گا کہ مولیٰ میں نے اسے امان دی تھی مگر اسامہ نے میری امان توڑی اسے قتل کردیا۔یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جہاد میں ایک کافر کو پچھاڑا اور اسے قتل کے ارادے سے اس کے سینہ پر بیٹھے،اس نےآپ پر تھوک دیا تاکہ غصہ میں مجھے جلد قتل کردیں،آپ نے اسے چھوڑ دیا سینے سے اٹھ گئے اس نے وجہ پوچھی،آپ نے فرمایا کہ تیری اس حرکت سے مجھے غصہ آگیا اب تیرا قتل نفسانی وجہ سے ہوتا نہ کہ ایمانی وجہ سے اس لیے میں نے تجھے چھوڑ دیا،وہ آپ کا یہ اخلاص دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطاء اجتہادی سے جو قتل واقع ہو نہ اس پر قصاص ہے نہ دیت،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت اسامہ پر ناراضی و ناپسندیدگی کا اظہار تو فرمایا مگر قصاص یا دیت کا حکم نہ دیا،موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر خطاءاجتہادی سے بہت سختی کی،مارنا،داڑھی کے بال پکڑنا،اپنی طرف کھینچنا مگر رب نے قصاص کا حکم نہ دیا،پتہ لگا کہ خطاءاجتہادی معاف ہے۔اگر باپ بیٹے کو،استاد شادگردکو مجرم سمجھ کر سزا دے دے مگر وہ ہو بےقصور تو استادوباپ پر نہ گناہ ہے نہ قصاص لہذا حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کی جنگیں کسی صحابی کے فسق کا باعث نہیں۔
۲؎ کئی بار فرمانا اظہار ناراضی اور مسئلہ کی اہمیت کے لیے ہے تاکہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہ کریں۔فقہا فرماتے ہیں کہ جو کافر بار بار ایسی حرکت کرے کہ مسلمانوں کو شہید کرتا رہے اور جب خود گِھر جایا کرے تو کلمہ پڑھ لیا کرے اس کے کلمہ پڑھنے کا اعتبار نہیں اسے قتل کردیاجائے۔(شامی)یہاں یہ واقعہ باربار ہوا لہذا یہ حدیث اس فقہی حکم کے خلاف نہیں۔