Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
365 - 1040
حدیث نمبر365
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جہینہ کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا ۱؎ تو میں ان میں سے ایک شخص کے سر پر پہنچا اسے نیزہ مارنے لگا تو اس نے کہہ دیا لا الہ الا اﷲ مگر میں نے اس کے نیزہ مارکر قتل کردیا ۲؎ پھر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۳؎ فرمایا کیا تم نے اسےقتل کردیا حالانکہ وہ گواہی دے چکا تھا لا الہ الا اﷲ کی میں نے کہا یارسول اﷲ اس نے بچنے کے لیے کہا۴؎ فرمایا تم نے اس کا دل کیوں نہ چیرلیا ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی قبیلہ جہینہ کے کفار سے جہاد کرنے کو لشکر اسلام بھیجا جس میں میں بھی تھا،حضرت اسامہ حضور علیہ السلام کے بہت محبوب صحابی ہیں۔

۲؎ کیونکہ میں اپنے اجتہاد سے سمجھا یہ کہ یہ شخص فقط جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے دل سے نہیں پڑھتا،یہ بھی سمجھا کہ ایسی مجبوری کی حالت میں اسلام لانا قتل سے نہیں بچاتا کیونکہ سورۂ سجدہ کی آخری آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے"قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمٰنُہُمْ وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ"۔اس آیت کی بنا پر میں نے اسے کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کردیا،یہ ہے خطاء اجتہادی۔

۳؎ یہ خبر اس لیے دی کہ مجھے پتہ لگ جائے کہ میں نے اس اجتہاد میں غلطی تو نہیں کی۔

۴؎ کیونکہ اس نے دل سے مسلمان ہونا تھا تو پہلے ہوا ہوتا یہ کیا کہ جب تلوار سر پر پہنچی تب کلمہ پڑھا،یہ جان بچانے کے لیے تھا،یہ ہوئی وجہ اجتہاد۔

۵؎ یعنی تم کو کیا خبر کہ اس کے دل میں کیا ہے اخلاص یا بچانے کا بہانہ ایسی صورت میں ظاہری کلمہ کا اعتبار کرنا چاہیے تھا،یہاں دل چیرنے سے مراد دل کا حال معلوم کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں ورنہ دنیا سے امان اٹھ جائے،کسی کافرکے ایمان لانے کی کوئی سبیل نہ رہے کہ اس پر بہانہ بازی کا الزام لگادیا جائے۔
Flag Counter