۱؎ عہدوپیمان والے کافر سے مراد یا ذمی کفار ہیں مسلمان کی رعایا اور مستامن جو کچھ مدت کے لیے امان لے ہمارے ملک میں آئیں اور معاہد جن سے ہماری صلح ہو ان میں سے کسی کو بلاوجہ قتل کرنادرست نہیں،ہاں اگر وہ کوئی ایسی حرکت کریں جس سے ان کا قتل درست ہوجائے تو قتل کئے جائیں۔
۲؎ یعنی اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ سے جنت پہنچ تو جائے گا مگر وہاں کی مہک و خوشبو کما حقہ نہ سونگھ سکے گا اس کو اس جرم میں گویا زکام کرادیا جائے گا۔(مرقات)یا اولًا جنت میں نہ جائے گا اگرچہ آخر میں پہنچ جائے۔
۳؎ چونکہ اہل عرب موسم خریف سے سال شروع کرتے تھے اسی لیے سال کو خریف کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان شاء اﷲ جنت کی خوشبو میدان قیامت میں پہنچے گی مسلمان اس خوشبو سے لطف اندوز ہوں گے۔ (اشعہ)