Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
364 - 1040
حدیث نمبر364
روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے ۱؎ کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایئے تو اگر میں کسی کافر آدمی سے ملوں پھر ہم جنگ کریں تو وہ میرے ایک ہاتھ پرتلوار مارکر اسے کاٹ دے ۲؎ پھر وہ مجھ سےکسی درخت کی پناہ لے لے پھر کہے کہ میں اﷲ کے لیے اسلام لے آیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو وہ بولا لا الہ الا اﷲ۳؎ تو اس کے کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں ؟ فرمایا قتل نہ کرو۴؎ وہ بولے یا رسول اﷲ اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا ہے ۵؎ تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مت قتل کرو ۶؎ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو وہ تمہارے درجہ میں ہوگاجو قتل کرنے سے پہلے تھا اور تم اس کے درجہ میں ہو جو اس کے کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ عظیم الشان جلیل القدر صحابی ہیں اور چھٹے مؤمن ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل ہوئے،آپ کے والد کا نام عمرو ابن ثعلبہ کندی یا حضرمی ہے،چونکہ اسود ابن یغوث زہری کے حلیف تھے اسی لیے انہیں ابن اسود کہا جاتا ہے۔

۲؎ یعنی بحالت جہاد میراکسی کافر سے مقابلہ ہوجائے وہ موقعہ پاکر میرا ہاتھ کاٹ ڈالے پھر واقعہ در پیش آئے جو آگے مذکور ہے۔

۳؎ یعنی وہ مسلمان ہوگیا اور مجھے اس کے اسلام کی خبر ہوگئی اس کا کلمہ سن کر۔

۴؎ یعنی نہ تو اسے قتل کرو کہ اب وہ مسلمان ہوگیا اور نہ اپنے ہاتھ کے عوض اس کا ہاتھ کاٹو کیونکہ اگر کافر حربی بحالت قتال مسلمان کو قتل یا زخمی کردے پھرمسلمان ہوجائے تو اسلام لانے کے بعد زمانہ کفر کے جرم کا قصاص نہیں ہوتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا"بہرحال یہ قاعدہ کلیہ ہے۔

۵؎ یعنی کفر کی وجہ سے نہ سہی اس کے ظلم کی وجہ سے مجھے اجازت دیجئے کہ اس سے بدلہ لے لوں،کلمہ پڑھنے سے کفر ختم ہوگیا ظلم تو اس کے سر پر سوار ہے۔

۶؎ کیونکہ اس کے کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے اس کے سارے گناہ معاف ہوچکے جو کفر کے زمانہ میں کئے  یہ بحالت جنگ جو قتل و زخم کیا وہ بھی معاف ہوگیا۔خیال رہے کہ کافر کے مؤمن ہوجانے پر زمانہ کفر کے گناہ تو معاف ہوگئے مگر حقوق اور سزائیں معاف نہ ہوئیں لہذا اسے زمانہ کفر کا قرض ادا کرنا ہوگا اور اس زمانہ کی چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا جائے گا بحالت قتال قتل و زخم کا بدلہ نہ لیا جائے گا یہ فرق خیال میں رہے۔

۷؎ یعنی جیسے وہ کافر کفر کی وجہ سے مباح الدم مستحق قتل تھا ویسے ہی اب تم اس قتل کی وجہ سے مستحق قتل ہوجاؤ گے حکم یکساں ہے وجہ حکم میں فرق ہے کیونکہ وہ مسلمان ہوکر معصوم الدم ہوگیا اورجو ایسے شخص کو قتل کردے اسے قتل کیا جاتا ہے اور جیسے تم پہلے محفوظ الدم تھے ایسے ہی اب وہ محفوظ الدم ہوگیا،یا یہ مطلب ہے کہ اب اس قتل کی وجہ سے تم مستحق عذاب ہوگئے اور وہ کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے مستحق رحمت ہوگیا،اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کافر ہوگئے جیساکہ خوارج کا عقیدہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافرہوجاتاہے وہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں مگر یہ استدلال ضعیف ہے۔
Flag Counter