۱؎ محمد ابن جحش جیم اورحاء کے فتح سے ان کے حالات نہ معلوم ہوسکے غالبًا آپ صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے(اشعہ)
۲؎ معمر ابن عبداﷲ قرشی عدوی صحابی ہیں بڑے پرانے مسلمان ہیں اہل مدینہ میں شمار ہوتے ہیں چونکہ یہ حضرات پہلے سے ستر ڈھانپنے کے عادی نہ تھے نیز انہیں خبر نہ تھی کہ ران بھی ستر ہے اس لیے بے خیالی میں ران کھولے بیٹھے تھے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صحابی ستر کھولے کیوں بیٹھے تھے۔
۳؎ یعنی گھٹنوں سے ناف تک کا بدن ستر ہے اس کا چھپانا واجب ہے ناراضی کا اظہار اس لیے نہ فرمایا کہ یہ حضرت مسئلہ سے بے خبر تھے یا بے خیالی میں ان کی ران کھل گئی تھی،غرض کہ بے خبری اور بے خیالی اور دیدہ دانستہ جرم کرنا کچھ اور۔