۱؎ عبداﷲ ابن مالک کی کنیت ابوتمیم ہے،جیشانی ہیں،تابعی ہیں،حضرت عمر و ابوذرغفاری وغیرہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے اور عقبہ ابن عامر جہنی صحابی ہیں۔
۲؎ یعنی مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ تک حج کرنے پیدل ننگے پاؤں ننگے سر جائیں گی۔خیال رہے کہ عورت کے لیے ننگے سر نکلنا گناہ ہے کہ بے پردگی بلکہ ستر کھولنا ہے گناہ کی نذرمنعقد تو ہوجاتی ہے مگر اس کا پورا کرنا حرام ہوتا ہے،کفارہ واجب ننگے پاؤں پیدل چلنا جائز ہے جس کی نذر منعقد ہوجاتی ہے،یہ مذہب ہے امام اعظم کا،دوسرے ائمہ کے ہاں ان کاموں کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔
۳؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو دوپٹہ اوڑھنے کا حکم اس لیے دیا کہ عورت کا ننگے سر نکلنا گناہ ہے،عورت کا سر ستر ہے،سوار ہونے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ پیدل چلنے سے عاجزتھیں،تین روزے یا تو اس نذر کا کفارہ ہے یا ہدی کے عوض ہے جیساکہ پہلےگزرا۔اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تین روزے حج کے زمانہ میں رکھیں،ساتویں،آٹھویں،نویں،بقر عید کے اور سات روزے گھر آکر"تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ "یہ حکم قرآن ہے۔