| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ دو انصاری بھائی جن کے درمیان کچھ میراث تھی ان میں سے ایک نے دوسرے سےتقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال خانہ کعبہ میں صرف ہو۱؎ تو ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ کعبہ تمہارے مال سے غنی ہے ۲؎ اپنی قسم کا کفارہ دو اور اپنے بھائی سے کلام کرو ۳؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ تم پرقسم ہے اور نہ نذر ہے اﷲ کی نافرمانی میں اور نہ قطع رحمی میں اور نہ اس میں جس کا مالک نہ ہو ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی اس بھائی نے اپنے دوسرے بھائی سے کہا کہ باپ کا متروکہ مال ہم تم تقسیم کرلیں آدھا تم لے لو آدھا مجھے دے دو،اگر دوسرے اور وارث بھی ہوں تو ہر ایک کو اس کا حصہ دے دو دراہم،دینار،زمین باغ وغیرہ۔ ۲؎ رتاج ر کے کسرہ سے بمعنی زینت،مصلحت،بڑا دروازہ مگر اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہ لفظ زائد ہوتا ہے اظہار عظمت کے لیے جیسے لفظ جناب لہذا معنے یہ ہوئے کہ محترم کعبہ کے خرچ میں میرا مال صرف ہو،یہ ایک قسم کی نذر مانی،وہ چاہتے تھے کہ ہم سب بھائی ملے جلے رہیں تقسیم کر کے علیٰحدہ نہ ہوجائیں میراث دینے سے انکار نہ تھا یعنی کعبہ معظمہ کے خرچ کے لیے رب تعالٰی بہت روپیہ بھیجتا ہے اس کا کوئی خرچ رکا ہوا نہیں ہے۔ ۳؎ یعنی اب اگر تمہارا بھائی تقسیم میراث کا تم سے مطالبہ کرے تو تم اس سے بے تکلف کلام کرو اور اپنا سارا مال کعبہ معظمہ نہ بھیجو بلکہ اسی نذر کا کفارہ دے دو جوکفارہ قسم کی طرح ہے یا تمہارا یہ کلام قسم ہے نذر نہیں،قسم توڑکر بھائی سے کلام کرلو پھرکفارہ ادا کرو۔ ۴؎ یعنی تم نے یہ قسم قطعیت رحم کی کھائی ہے بھائی سے کلام نہ کرنا قطع رحم ہے اور اس کی قسم منعقد تو ہوجاتی ہے مگر پورا کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ ایسی قسم کا توڑنا ضروری ہوتا ہے۔لایمین کے یہ معنے نہیں کہ قسم منعقد ہی نہ ہوئی ورنہ پھر کفارہ کیسا؟بلکہ معنے یہ ہیں کہ اس قسم کا پورا کرنا ممنوع ہے۔لایملك یا معروف ہے یا مجہول یعنی جو چیزقسم کھانے والے کی مملوک نہ ہو یا جس کا قسم کھانے والا مالک نہ ہو اس کا کفارہ ہے۔