Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
355 - 1040
حدیث نمبر355
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداﷲ سے کہ فتح مکہ کے سال ایک شخص کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اﷲ کے لیے نذر مانی تھی کہ اگر اﷲ تعالٰی آپ کو فتح مکہ عطا کرے تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں پڑھوں گا ۱؎ فرمایا یہاں ہی پڑھ لو۲؎ تو انہوں نے پھر سوال دھرایا،فرمایا یہاں ہی پڑھ لو،پھر سوال دہرایا،فرمایا اچھا تو تم جانو ۳؎ (ابوداؤد،دارمی)
شرح
۱؎ مقدس میم کے فتح دال کے کسرہ سے بمعنی بزرگی والا گھر مگر عوام مقدس باب تفعیل کا اسم مفعول بولتے ہیں۔شاید ان صاحب کا خیال یہ ہوگا کہ بیت المقدس کی نماز حرمین شریفین کی مسجد بیت اﷲ اور مسجد نبوی شریف کی نماز سے افضل ہے حالانکہ مسجد حرام شریف میں ثواب زیادہ ہے۔

۲؎ اگر یہ سوال مکہ معظمہ میں تھا تو یہاں سے مراد مسجد حرام شریف ہے اور اگر مدینہ منورہ میں سوال ہوا ہے تو یہاں سے مراد مسجد نبوی شریف ہے۔خیال رہے کہ مکہ معظمہ کی مسجد کا ثواب بیت المقدس سے دوگنا ہے کہ وہاں ایک کا ثواب پچاس ہزار ہے اور حرم شریف میں ایک لاکھ اور مسجد نبوی کا ثواب بیت المقدس کے برابر مگر مسجد نبوی میں نماز کا درجہ زیادہ ہے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب ہے اور اگر کوئی شخص نذر سے اعلیٰ عبادت اداکردے تو نذر ادا ہوجاتی ہے،چونکہ نذرتھی بیت المقدس کی اور یہ صاحب ادا کرتے ہیں مسجد حرام یا مسجد نبوی میں جو وہاں سے اعلیٰ ہے لہذا بہرحال نذر پوری ہوجاتی۔مساجد میں اعلیٰ مسجد حرام ہے،پھرمسجد نبوی،پھر مسجد قدسی،پھر اپنے شہر کی جامع مسجد،پھر محلہ کی مسجد،پھر گھر کی مسجد(جاء نماز)امام زفر و ابویوسف کا مذہب ہے کہ مسجد قدسی کی نماز کی نذر حرم شریف اور مسجد نبوی کی نماز سے ادا ہوجاتی ہے مگر اس کے برعکس درست نہیں یعنی مسجد حرام کی نماز کی نذر مسجد قدسی کی نماز سے ادا نہیں ہوتی مگر امام اعظم و محمد کے نزدیک نماز میں جگہ کی تخصیص معتبر نہیں لہذا اگر مسجد حرام کی نماز کی نذر مانی ہو تو جہاں پڑھ لےدرست ہے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ امام اعظم کے نزدیک بھی یہ درست نہیں نذر یا مساوی میں ادا ہوگی یا اعلیٰ میں۔

۳؎ یعنی ہم نے تم کو وہ بات بتائی تھی جو اعلیٰ بھی تھی اور آسان بھی لیکن تم کو اپنی بات پر اصرار ہے تو جاؤ وہاں ہی یعنی بیت المقدس میں ہی پڑھ کر آؤ۔معلوم ہوا کہ وہ حضور کا مشورہ تھا حکم نہ تھا اور اگر حکم تھا تو استحبابی اسی لیے اس کے نہ ماننے کا اختیار تھا۔
Flag Counter