| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاجو نذر مانے اور اسے مقرر نہ کرے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎ اور جو گناہ میں منت مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۲؎ اور جو ایسی نذر مانے جس کی طاقت رکھتا ہو تو اسے پورا کرے ۳؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)بعض نے یہ حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف کی۔
شرح
۱؎ یعنی جو نذرمطلق مانے مثلًا اگر میرے بیمار کو شفا ہوگئی تو مجھ پر اﷲ کے لیے نذر ہے یہ نہ کہے کس چیز کی نذر ہے روزہ حج صدقہ وغیرہ تو اس پر کفارہ دینا واجب ہے کیونکہ وہ اس نذر کے پوراکرنے پر قادر نہیں،امام احمدوشافعی وغیرہم نے حدیث کی اور توجیہیں کی ہیں مگر وہ تمام تکلفات ہیں۔صحیح توجیہ یہ ہی ہے جو ہم نے عرض کی یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔فتح القدیر میں فرمایا کہ نذرمطلق صیغۃً نذر ہوتی ہے کلمًا قسم،ہاں اگر یہ الفاظ کہتے وقت کسی خاص عبادت کی نیت کرے درست ہے اور اس پر وہ ہی عبادت لازم ہوگی۔ ۲؎ مثلًا کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو میں اﷲ کے لیے پہاڑ اٹھالوں گا یا آسمان پر چڑھ جاؤں گا وغیرہ، چونکہ یہ کام طاقت سے باہر ہے یا کہے کہ میں حج کروں گا حالانکہ خرچ پاس نہ ہو یا کہے کہ پیدل حج کروں گا حالانکہ راستہ دراز ہو بیچ میں سمندر حائل ہو ان سب میں کفارہ واجب ہوگا۔ ۳؎ نذر پوری کرنے کے واجب ہونے کی شرائط ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ایسے کام کی نذر مانے جس کی جنس کا کوئی واجب بعینہ ہو اور اس کے پوراکرنے پر طاقت بھی رکھتا ہو لہذا وضو کرنے،بیمار پرسی کرنے،نمازجنازہ میں شرکت کرنے کی نذر پوری کرنا واجب نہیں کہ وضو وغیرہ واجب بعینہ نہیں اور ایسی نذر میں بھی کفارہ کا اختیار ہوتا ہے مگر پوری کرنا مقدم۔