Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
352 - 1040
حدیث نمبر352
روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سےفرماتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں نذر مانی کہ مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرے گا ۱؎ پھر وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو یہ خبردی۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا وہاں جاہلیت کے بتوں سےکوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی لوگوں نے کہا نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں سے کوئی میلہ لگتا تھا لوگ بولے نہیں۳؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎ کیونکہ نہ تو اﷲ کے گناہ میں نذر درست ہے اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہ ہو ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ بوانہ دو ہیں:ایک تو مکہ معظمہ کے قریب جگہ ہے یلملم  پہاڑ سے متصل،دوسرا ملک فارس میں مگر فارس والی جگہ کا نام بوّان ہے بغیر ہ کے،واؤ کے شد سےیہاں پہلی جگہ مراد ہے۔(مرقات)

۲؎  اور حضور سے مسئلہ پوچھا کہ یہ نذر پوری کروں یا نہیں۔

۳؎ ان سوالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ کفار کی مشابہت سے بچے،ان کی مذہبی شعار اور قومی علامات اختیار نہ کرے،کفار کی مذہبی علامات اختیارکرناکفرہے اور ان کی قومی علامات اختیارکرنا حرام،زنّار باندھنا،سر پر چوٹی رکھنا کفر ہے،ہندوؤں کی دھوتی،عیسائیوں کا ہیٹ استعمال کرنا حرام،اگر بوانہ میں بت ہوتا جہاں مشرکین اس کی بھینٹ کے لیے جانور ذبح کرتے ہوتے تو وہاں ان صحابی کو جانور ذبح کرنا کفر ہوتا،اگر وہاں ان کا میلہ لگتا ہوتا جہاں وہ جانور ذبح کرتے ہوتے اور یہ ذبح ان کا قومی نشان ہوتا تو وہاں ذبح کرنا ان صحابی کو حرام ہوتا۔خیال رہے کہ عرس بزرگان کفار کے میلے نہیں،یہاں کفار کے میلوں کا ذکر ہے لہذا وہابیوں کا اسے عرس وغیرہ پر چسپاں کرنا حماقت ہے ورنہ پھر جلسوں کے مجمعوں میں جانور ذبح کرنا حرام ہونا چاہیے۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص کسی خاص جگہ قربانی کرنے یا خاص جگہ کے فقراء پر صدقہ کرنے کی نذر مانے تو اسے پورا کرے۔(مرقات)تو جو مسلمان حرمین شریفین کے فقراء پر صدقہ،کسی بزرگ کے مزار کے پاس رہنے والے مسکینوں پرخیرات کرنے کی منت مانے وہ اسے پوراکرے وہاں ہی کے فقراء کو دے،کسی بزرگ کے مزار پر ذبح کی نذر مانے تو وہاں ہی ذ بح کرے۔

۵؎  مگر فرق یہ ہوگا کہ گناہ کی نذر میں کفارہ واجب ہوگا اور غیرمملوکہ چیز کی نذر میں نہ پوراکرنا واجب نہ کفارہ لازم۔(مرقات)لہذا اگر کوئی نذر مانے کہ میں فلاں کی بکری قربانی کردوں گا نذر درست نہیں،اگر وہ اس بکری کو خرید بھی لے تب بھی اس کی قربانی واجب نہ ہوگی نہ کفارہ ہوگا۔
Flag Counter