۱؎ یعنی کسی کے سامنے ران نہ کھولو اور نہ بلا ضرورت تنہائی میں کھولو رب تعالٰی سے شرم کرو کیونکہ ران ستر ہے اس سے آج کل کے نیکر پہننے والے عبرت پکڑیں جن کی آدھی رانیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ بے تکلف لوگوں میں پھرتے ہیں اﷲ تعالٰی ایمانی غیرت نصیب کرے۔
۲؎ یعنی کسی مُردہ بالغ مسلمان کی ران نہ دیکھو اور کسی ایسے زندہ کی ران نہ دیکھو جن کا تم سے ستر ہے لہذا اس دوسرے حکم سے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی خارج ہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ران ستر ہے،جس کا چھپانا فرض ہے،لہذا یہ حدیث امام مالک کے خلاف ہے، دوسرے یہ کہ مردہ کا احترام زندہ کی طرح ہے کہ اس کا ستر دیکھنا حرام ہے لہذا غسال بھی میت کو ستر ڈھک کر غسل دے اسے بھی ستر دیکھنا جائز نہیں۔