Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
337 - 1040
حدیث نمبر337
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے  فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قسم میں مبالغہ فرماتے تو یوں فرماتے اس کی قسم،جس کے قبضہ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہاں لا یا تو زائدہ ہے جیسے قرآن کریم میں ہے"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ"یا "لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"یا گزشتہ کسی کلام کی نفی ہے یعنی ایسا نہیں ہوا قسم ہے اس رب کی الخ پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں،اسی معنے پر ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ قسم نہایت مبالغہ کی ہے کیونکہ رب تعالٰی کی انتہائی قدرت و قبضہ کا بھی ذکر ہے اور اپنی ذات کریمہ کے مقبوض و مقدور ہونے کا بھی تذکرہ یعنی ہم اس کی قسم فرماتے ہیں جس کا ہم پر پورا پورا قبضہ ہے اور ہم جس کے قبضہ وتصرف میں ہمیشہ اور ہر طرح ہیں، اس عظمت پر خیال رکھتے ہوئے یہ قسم فرمارہے ہیں چونکہ حضور خود تمام مخلوق الٰہی میں اشرف و برتر ہیں اس لیے یہ قسم بھی بہت اشرف و برتر ہے۔
Flag Counter