۱؎ یہاں لا یا تو زائدہ ہے جیسے قرآن کریم میں ہے"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ"یا "لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"یا گزشتہ کسی کلام کی نفی ہے یعنی ایسا نہیں ہوا قسم ہے اس رب کی الخ پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں،اسی معنے پر ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ قسم نہایت مبالغہ کی ہے کیونکہ رب تعالٰی کی انتہائی قدرت و قبضہ کا بھی ذکر ہے اور اپنی ذات کریمہ کے مقبوض و مقدور ہونے کا بھی تذکرہ یعنی ہم اس کی قسم فرماتے ہیں جس کا ہم پر پورا پورا قبضہ ہے اور ہم جس کے قبضہ وتصرف میں ہمیشہ اور ہر طرح ہیں، اس عظمت پر خیال رکھتے ہوئے یہ قسم فرمارہے ہیں چونکہ حضور خود تمام مخلوق الٰہی میں اشرف و برتر ہیں اس لیے یہ قسم بھی بہت اشرف و برتر ہے۔