۱؎ یعنی یوں کہے کہ اگر میں نے یہ کیا ہو تو میں اسلام سے بری و دور ہوجاؤں گا اور وہ جانتا ہے کہ اس نے یہ کام کیا اس وقت جھوٹ بول رہاہے۔
۲؎ یعنی اسلام سے بری دور ہو ہی جائے گا،یہ فرمان انتہائی ڈرانے کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا جو نماز چھوڑے اس نے کفرکیا۔مطلب یہ ہے کہ اس قسم میں اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ اگر گزشتہ پر یہ قسم کھائی ہے تو صرف گناہ ہوگا کفارہ نہ ہوگا کیونکہ غموس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا۔ اگر آئندہ پر یہ الفاظ بولے کہ اگر میں یہ کام کروں تو اسلام سے بیزار و بری ہوجاؤں اگر حلال کو حرام کرنے کے لیے کہا ہے تو قسم ہوجائے گی کہ تحریم حلال قسم ہے۔
۳؎ یعنی اگر اپنے کو سچا سمجھ کر یہ کلمات کہے اور واقعہ تھا وہ جھوٹا تب بھی اس نے بڑا گناہ کیا مثلًا اس نے کہا کہ اگر میں نے فلاں سے بات کی ہو تو میں اسلام سے دور ہوجاؤں خیال تھا کہ میں نے بات نہیں کی مگر کی تھی،تب بھی اس کلمہ میں گناہ ہے کہ اس نے اسلام کو معمولی دیکھا سمجھا، یہ ہی حکم ہے یہ کہنے کا میں نماز و روزہ حج زکوۃ سے بری ہوں، کیونکہ اسلامی احکام کو ہلکا جاننا بات بات پر ان سے بیزاری کا اظہار کرنا بڑا ہی خطرناک ہے۔