۱؎ اگر امانت سے مراد شرعی احکام ہیں یعنی نماز روزہ وغیرہ تو یہ قسم ناجائز ہے اور اس میں کفارہ نہیں، قرآن کریم میں شرعی احکام کو امانت فرمایا گیا ہے"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"یہ قسمیں کفار کھاتے تھے نماز کی قسم وغیرہ،اور اگر مراد امانت اﷲ ہے تو قسم معتبر ہے اسی پر کفارہ واجب کہ امانت اﷲ کی صفت ہے اور صفات الٰہی کی قسم معتبر ہے جیسے اﷲ کے علم یا قدرت یا سمع بصر کی قسم، رب تعالٰی کا نام شریف امین بھی ہے۔(مرقات،واشعہ)خیال رہے کہ جو کہے بسم اﷲ میں یہ کروں گا اگرچہ قسم ہی کی نیت سے کہے قسم نہ ہوگی کہ یہ عرف کے خلاف ہے ایسے ہی حق اﷲ کی قسم معتبر نہیں۔