۱؎ قسم لغو وہ ہے جس میں نہ کفارہ ہو نہ گناہ،لغو بمعنے بے کار، قسم لغو کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔امام شافعی کے ہاں قسم لغو یہ ہے کہ بغیر ارادہ منہ واﷲ باﷲ نکل جائے جیسے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے واﷲ آئے واﷲ جائے وغیرہ،یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ہے،ہمارے امام اعظم کے نزدیک قسم لغو یہ ہے کہ کسی بات پر اسے سچ سمجھ کر قسم کھائے مگر وہ ہو جھوٹ جیسے کسی کو زید کے آجانے کایقین تھا وہ کہے قسم خدا کی زید آگیا لیکن وہ آیا نہ تھا،یہ قسم لغو ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس نے قسم لغو کی یہ ہی تفسیر فرمائی امام اعظم و امام احمد کا یہ ہی مذہب ہے لہذا ہمارے ہاں اگر بغیر قصد قسم نکل جانے پر قسم کے احکام جاری ہوں گے مثلًا عادت کے طور پر کہہ دے واﷲ میں جاؤں گا واﷲ کھاؤں گا اگر نہ جائے نہ کھائے تو کفارہ واجب ہوگا اگرچہ قسم کی نیت سے واﷲ نہ کہا ہو،نذر کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ بغیر قصد نذر کے الفاظ جاری ہونے سے نذر ہوجاتی ہے کیونکہ بعض احادیث میں ہے کہ تین چیزیں عمدًا ہوں تب بھی درست ہیں خطاء یا بھول کر ہوں جب بھی درست،نکاح،طلاق اور قسم۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ میری امت سے خطاء و نسیان اٹھالیے گئے تو خطاء کی قسم پر احکام کیسے ؟ مگر یہ کمزور سی بات ہے کیونکہ خطاء ونسیان پر سزا اٹھالی گئی نہ کہ احکام پر ، روزے میں خطاء پانی پی لینے سے روزہ جاتا رہتا ہے اگرچہ اس پر گناہ نہیں ایسے خطاء قسم پر گناہ نہیں احکام مرتب ہیں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور مرقات میں اسی جگہ دیکھئے۔
۲؎ یعنی شرح سنہ میں اس حدیث کے وہ الفاظ منقول ہیں جو مصابیح میں نقل فرمائے، وہ یہ ہیں قالت لغو الیمین قول الھمان لا واﷲ وبلی واﷲ۔(اشعہ)
۳؎ یعنی امام بغوی نے شرح سنہ میں فرمایا کہ بعض محدثین نے یہ حدیث عائشہ مرفوعًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نقل فرمائی۔خیال رہے کہ مجبور کی قسم ہمارے ہاں معتبر ہے اس پر احکام جاری ہیں،امام شافعی و احمد کے ہاں معتبر نہیں،ان کی دلیل دار قطنی کی وہ حدیث ہے جو واثلہ ابن اسقع وابی امامہ سے منقول ہے لیس علے مقہور یمین مگر یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔(مرقات)