| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے انہی سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قسم قسم لینے والے کی نیت پر ہے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی جب مقدمہ میں مدعی مدعیٰ علیہ سے قسم لے تو قسم کے الفاظ میں مدعی کی نیت کا اعتبار ہوگا مدعی علیہ تاویل کرکے دوسرے معنے خلاف ظاہر کی نیت نہیں کرسکتا کہ اس صورت میں مدعی علیہ ظلمًا مدعی کا حق مارنا چاہتا ہے اس لیے تاویلیں کرکے قسم کھارہا ہے اگر بعد تاویل کرکے قسم کھا جائے تو تاویل معتبر نہیں مدعی کی نیت کا اعتبار ہے۔