Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
327 - 1040
حدیث نمبر327
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اے عبدالرحمن ابن سمرہ امیر ہونا نہ مانگو ۱؎ کیونکہ اگر تمہیں حکومت مانگ کردی گئی تو تم اس کی طرف سپرد کردیئے جاؤ گے ۲؎ اور اگر بغیر مانگے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۳؎ اور جب تم کسی چیز پر قسم کھالو پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے لو اور جو بہتر ہے وہ کرلو۴؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جو اچھا ہے وہ کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے لو۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  یعنی حکومت و سرداری کی خواہش نہ کرو نہ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو،آج کل تو ممبری وزارت حاصل کرنے ووٹ لینے کی جو کوشش ہوتی ہے سب کو معلوم ہے کہ دونوں کے لیے دین ایمان دولت عزت سب کچھ قربان کردیتے ہیں اس کاانجام بھی آنکھوں دیکھاجارہا ہے سارے فسادات ان حکومتوں کے ہیں جو یہ کوشش حاصل کی جاتی ہیں۔

۲؎ یعنی حکومت کی ذمہ داریاں بہت ہیں ہر شخص ان کو پورا نہیں کرسکتا اﷲ تعالٰی ہی مدد کرے تو بندہ اس میں کامیاب ہوسکتا ہے لیکن جو کوئی اپنی کوشش سے حکومت لے گا وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا اﷲ تعالٰی اس کی مدد نہ کرے گا،یہ حکم اس صورت میں ہے کہ انسان نفسانی خواہش عیش دولت عزت شہرت حاصل کرنے کے لیے حکومت چاہے لیکن اگر نظام حکومت نااہلوں کے پاس جاکر ملک کے فساد کا اندیشہ ہو تو اﷲ کے دین اور مخلوق کی خدمت کے لیے  حکومت حاصل کرنا عبادت ہے جب کہ اپنی نفسانی خواہش کو اس میں دخل نہ ہو۔حضرت یوسف علیہ السلام نے شاہ مصر سے فرمایا تھا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"مجھے خزانوں کا حاکم بنادو،اگر آپ اس وقت یہ عہدہ نہ سنبھالتے تو اس قحط سالی میں لوگ بھوکے مرجاتے۔

۳؎ یعنی اس صورت میں اﷲ تعالٰی بذریعہ فرشتے کے تمہاری مدد فرمائے گا کہ اس کا فرشتہ تمہارا مشیر رہے گا تمہیں سنبھالے رہے گا۔

۴؎ جو شخص گناہ کرنے یا فرائض ادا نہ کرنے کی قسم کھالے مثلًا خدا کی قسم میں شراب پیوں گا یا نماز نہ پڑھوں گا تو ایسی قسم کا توڑنا اور کفارہ ادا کردینا واجب ہے اور جو غیرمناسب کام کی قسم کھالے مثلًا خدا کی قسم میں ایک ماہ تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کروں گا ایسی قسم کا توڑ دینا مستحب ہے،اور جائز کاموں کی قسموں کا پورا نہ کرنا ضروری ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمٰنَکُمْ"جیسے قسم رب کی میں یہ روٹی نہ کھاؤں گا،یہ کپڑا نہ پہنوں گا۔

۵؎ مگر ہر قسم کی قسم توڑنے میں کفارہ واجب ہے کیونکہ قسم تو اﷲ تعالٰی کے نام کی حرمت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس نے رب کو ضامن دے کر ایک وعدہ کیا مگر پورا نہ کیا نام پاک کی اس میں بے حرمتی کی تو کفارہ دے۔
Flag Counter