۱؎ یہاں یمین سے مراد وہ کام ہے جس پر قسم کھائی جائے لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ حلف اور یمین تو ایک ہی چیز ہے پھر علیٰ یمین کے لیے ؟
۲؎ یعنی قسم توڑ کر کفارہ دوں گا یا کفارہ دینے کا ارادہ کرلوں گا پھر قسم توڑوں گا کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کیسا کیونکہ قسم توڑنا کفارہ کا سبب ہے اور کبھی حکم سبب سے پہلی نہیں ہوسکتا،وقت سے پہلے نماز،رمضان سے پہلے روزہ جائز نہیں اسی طرح قسم توڑنے سے پہلے کفارہ درست نہیں۔خیال رہے کہ امام شافعی کے ہاں کفارہ مالی حنث سے پہلے ہوسکتا ہے مگر روزہ کفارہ حنث سے پہلے نہیں ہوسکتا یعنی قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کے روزے نہیں رکھ سکتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کفارہ کا سبب قسم ہے حنث تو اسکی شرط ہے،رب تعالٰی نے فرمایا :"کَفّٰرَۃُ اَیۡمٰنِکُمْ"کفارہ کو قسم کی طرف منسوب فرمایا،نسبت سے معلوم ہو اکہ کفارہ کا سبب قسم ہے جیسے کہاجاتا ہے رمضان کے روزے عصر کی نماز،کعبہ کا حج،نسبت و اضافت سبب ہونے کی علامت اور حکم اپنے سبب پر مقدم نہیں ہوتا،شرط پر مقدم ہوسکتا ہے۔سال سے پہلے زکوۃ دے سکتے ہیں،ہمارے امام اعظم کے ہاں کوئی کفارہ مالی ہو یا بدنی حنث سے پہلے جائز نہیں کیونکہ کفارہ کا سبب حنث ہے نہ قسم کفارہ کے معنی ہیں گناہ مٹانے یا چھپانے والی چیز قسم کھانا گناہ نہیں قسم توڑنا گناہ ہے لہذا توڑنا ہی سبب کفارہ ہوا اور حکم سبب سے پہلے نہیں ہوسکتا قرآن کریم میں کفارہ کی نسبت شرط کی طرف ہے جیسا کہا جاتا ہے اس سال کی زکوۃ،دیکھو سال زکوۃ کی شرط ہے سبب نہیں مگر اضافت ہورہی ہے پھرشوافع جب قسم کو کفارہ کا سبب مانتے ہیں تو روزوں کو مقدم کرنا درست کیوں مانتے ہیں۔
۳؎ مثلًا اگر قسم کھائی جائے کہ میں اپنے والد سے کلام نہ کروں گا تو چاہیے کہ قسم توڑ دے اپنے والدسے کلام کرے پھر کفارہ دے دے۔ خیال رہے کہ واؤ جمع کے لیے ہے ترتیب کے لیے نہیں لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کفارہ پہلے دے پھر قسم توڑے،بعض روایات میں ثم وارد ہوا فلیکفر عن یمینہ ثم لیأت بالذی ھو خیر مگر یہ روایت درست نہیں۔مسلم،بخاری میں وارد ہے یہاں مرقات نے ثم اور واؤ کی روایات میں بہت عمدہ بحث کی ہے واؤ کی روایت کو ترجیح دی اگر ثم کی روایات صحیح بھی ہوں تو بھی شوافع کے خلاف ہیں کہ وہ بھی کفارہ کا مقدم کرنا واجب نہیں مانتے صرف جائز مانتے ہیں مگر اس روایت سے ثابت ہوگا کہ کفارہ پہلے دینا قسم بعد میں توڑنا واجب ہے۔