۱؎ یعنی غیر خدا کی قسم کھانے سے منع فرمایا گیا،چونکہ اہل عرب عمومًا باپ دادوں کی قسم کھاتے تھے اس لیے اسی کا ذکر ہوا،غیر خدا کی قسم کھانا مکروہ ہے،وہ جو حدیث شریف میں ہے افلح و ابی یعنی قسم میرے والد کی وہ کامیاب ہوگیا وہ قسم شرعی نہیں محض تاکید کلام کے لیے ہے اور یہاں شرعی قسم سے ممانعت ہے یا وہ حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے یا وہ بیان جواز کے لیے ہے یہ حدیث بیان کراہت کے لیے۔(مرقات)
۲؎ اﷲ سے مراد رب تعالٰی کے ذاتی و صفاتی نام ہیں لہذا قرآن شریف کی قسم کھانا جائز ہے کہ قرآن شریف کلام اﷲ کا نام ہے اور کلام اﷲ صفت الٰہی ہے،قرآن مجید میں زمانہ، انجیر،زیتون وغیرہ کی قسمیں ارشاد ہوئیں وہ شرعی قسمیں نہیں نیز یہ احکام ہم پر جاری ہیں نہ کہ رب تعالٰی پر۔(مرقات)