۱؎ ایمان یمین کی جمع ہے یمین بمعنی داہنی جانب،یسار کی مقابل بمعنی بائیں جانب،چونکہ اہل عرب عمومًا قسم کھاتے یا قسم لیتے وقت ایک دوسرے سے داہنا ہاتھ ملاتے تھے اس لیے قسم کو یمین کہنے لگے۔یا یمین بنا یمن سے بمعنی برکت وقوت سے چونکہ قسم میں اﷲ تعالٰی کا بابرکت نام بھی لیتے ہیں اور اس سے اپنے کلام کو قوت دیتے ہیں اس لیے اسے یمین کہتے ہیں بمعنی بابرکت وقوت والی گفتگو۔قسم تین قسم کی ہوتی ہیں: قسم لغو،قسم غموس،قسم منعقدہ۔منعقدہ قسم توڑنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے بشرطیکہ اللہ کے نام کی کھائی گئی ہو اور قسم غموس میں صرف گناہ ہے اور قسم لغو میں نہ گناہ ہے نہ کفارہ۔نذور جمع ہے نذر کی بمعنی ڈرانا،اسی سے ہے نذیر کسی غیر واجب عبادت کو اپنے ذمہ واجب کرلینا نذر ہے خواہ کسی شرط پر معلق ہو یا نہ ہو گناہ کی نذر ماننے میں کفارہ قسم کا ہوتا ہے۔ قسموں اور نذروں کی مکمل بحث کتب فقہ میں ہے ہم بھی آئندہ بقدر ضرورت عرض کریں گے نذر کا ثبوت قرآن کریم سے ہے"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا"اور قرآن کریم میں ہے"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ"وغیرہ۔