| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو غلام خریدے اس کے مال کی شرط نہ لگائے تو اسے کچھ نہ ملے گا ۱؎(دارمی)
شرح
۱؎ غلام کے مال سے مراد اس کا مقبوضہ مال ہے نہ کہ مملوکہ مال کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا وہ خود اپنے مولے کا مال ہے یعنی کسی نے کسی شخص کا غلام ماذون خریدا جسے خریدو فروخت کی اجازت تھی اور اس کے مقبوضہ مال کی شرط نہ لگائی تویہ سارا مال فروخت کرنے والے مولے ٰ کا ہوگا اسے صرف غلام ملے گا ہاں اگر یہ خریدار کہہ لیتا کہ میں یہ غلام اور اس کا مقبوضہ مال خریدتا ہوں تب یہ مال خریدار کا ہوتا فلا شیئ لہ میں لہ کا مرجع خریدار ہے یعنی خریدار کو کچھ مال نہ ملے گا۔