Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
32 - 1040
حدیث نمبر 32
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردے تو اس کا ستر ہر گز نہ دیکھے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہر گز نہ دیکھے ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی لونڈی کا ستر مولا بھی دیکھ سکتا ہے چھو بھی سکتا ہے مگر جب کہ اس کا نکاح کسی سے کردے اگرچہ اپنے غلام سے ہی کردے تب ستر چھونا تو کیا دیکھ بھی نہیں سکتا کہ اب یہ لونڈی اس بارے میں اس کے لیے اجنبی ہوگئی،اس سے صحبت بھی حرام ہوگئی اور صحبت کے لوازمات بھی۔

۲؎ یہ جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی ایسی لونڈی کے دیکھنے سے جو منع فرمایا گیا اس سے مراد ستر دیکھنا ہے،چہرہ ہاتھ پاؤں تو اب بھی دیکھ سکتا ہے،کیونکہ اب بھی مولیٰ کو اس سے خدمت لینے کا تو حق ہے اور خدمت میں یہ اعضاء ضرور دیکھنے پڑ جاتے ہیں۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ لونڈی کا ستر مرد کی طرح ہے یعنی ناف سے گھٹنے تک،آزاد عورت کا تمام جسم ستر ہے سوا چہرے کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنے سے نیچے پاؤں کے فقہاء کا یہ حکم اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔
Flag Counter