۱؎ پہلی نگاہ سے مراد وہ نگاہ ہے جو بغیر قصدا جنبی عورت پر پڑ جائے اور دوسری نگاہ سے مراد دوبارہ اسے قصدًا دیکھنا ہے اگر پہلی نگاہ بھی جمائے رکھی تو بھی دوسری نگاہ کے حکم میں ہوگی اس پر بھی گناہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ علماء مشائخ کو بھی جائز نہیں کہ اپنی شاگردنی یا مریدنی کو قصدًا دیکھیں۔حضرت علی علماء و اولیاء کے سردار ہیں ان کو یہ حکم ہورہا ہے غورکر اور ڈر،ان سے بڑھ کر پاکباز کون ہوسکتا ہے۔جائز سے مراد ہے جس پر گناہ نہ ہو، جائز نہیں ناجائز کا مقابل ہوتا ہے کبھی فرض و واجب کا،ہوسکتا ہے کہ لک کا لام نفع کا ہو یعنی بغیر ارادہ والی نظر تمہارے لیے مفید ہے کہ جب تم فورًا نگاہ نیچی کر لو گے تو ثواب پاؤ گے تو لامحالہ دوسری نظر مضر ہی ہوگی۔