۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کا نام عامر ابن اسامہ ابن عمیر ہے،ہذلی ہیں، بصری ہیں، بہت سے صحابہ سے ملاقات ہے،آپ کے والد اسامہ ابن عمیر صحابی ہیں۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص پورے غلام کا مالک تھا مگر آزاد کیا اس کا آدھا یا چوتھائی باقی اپنی ملک میں رکھا،یہ مطلب نہیں کہ اس کے چند شخص مالک تھے ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا۔
۳؎ یعنی اس غلام کا کچھ حصہ تو اللہ کے لیے آزاد ہوگیا اور کچھ حصہ تیرا تھا، یہ صورت رب تعالٰی کے ساتھ شرکت ہے یہ بہتر نہیں، بہتر یہ ہی ہے کہ پورے غلام کو آزاد کر۔
۴؎ یعنی اسے حکم دیا کہ پورا غلام آزاد کردے اس نے ایسا ہی کیا،یہ حکم استحبابی تھا جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،امام اعظم غلام کی عتق کے تجزیہ و تقسیم کے قائل ہیں،یعنی ان کے ہاں ہوسکتا ہے کہ ایک غلام کا بعض حصہ آزاد ہو بعض غلام۔ جو علماء فرماتے ہیں کہ عتق کی تقسیم نہیں ہوسکتی،بعض کی آزادی کل کی آزادی ہے وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ استدلال کمزور ہے پچھلی احادیث اس کے خلاف گزر چکیں،چنانچہ مسلم،بخاری کی روایت گزر چکی عتق منہ ماعتق۔