| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کا غلام تھا وہ بولیں کہ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر یہ شرط لگاتی ہوں کہ جب تک جیو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کرو۲؎ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی لگائیں تو بھی میں زندگی بھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ چھوڑتا ۳؎ چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی ۴؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ کا نام رباح یا مہربان یا رومان ہے فارسی النسل ہیں،مشہور ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرت ام سلمہ کے غلام ہیں ہوسکتا ہے کہ حضور انور کے غلام ہوں آپ نے جناب ام سلمہ کو مرحمت فرمایا ہو،کسی سفر میں ایک شخص تھک گیا تو اس نے اپنی تلوار،ڈھال نیزہ وغیرہ بہت سی چیزیں ان پر ڈال دیں،حضور نے فرمایا تم تو سفینہ یعنی کشتی ہو اس دن سے آپ کا لقب سفینہ ہوگیا۔ آپ کے چار بیٹے ہیں: عبدالرحمن،محمد زیاد اور کثیر ان سب سے روایات لیں،آپ ہی کا واقعہ ہے کہ عہد فاروقی میں ایک جنگل میں ایک شیر نے آپ پر حملہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا اے ابو سائب میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا غلام ہوں راستہ بھول گیا ہوں تو وہ شیر کتے کی طرح دم ہلاتا آپ کے آگے آگے چل دیا جیسا کہ اسی مشکوۃ باب الکرامات میں آئے گا۔ان شاءاﷲ! ۲؎ یعنی تم کو آزاد بالشرط کرتی ہوں کہ تم بعد آزادی ہمیشہ حضور کی خدمت کرنا۔معلوم ہوا کہ عتق بالشرط جائز ہے،اس میں اختلاف ہے کہ غلام کو اس شرط کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں اوراگر نہ پوری کرے تو اس پر کچھ تاوان ہے یا نہیں،حق یہ ہے کہ ضرور پوری کرے کہ وعدہ کرچکا ہے،وعدہ پورا کرنا ضرور ہے۔ ۳؎ یعنی میں بغیر شرط لگائے بھی ان کا زندگی بھر غلام بے دام ہوں،چنانچہ حضرت سفینہ عمر بھر حضور کے بلکہ حضور کے صحابہ کرام کے خادم رہے۔ ۴؎ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ شرط بمعنی وعدہ ہے ورنہ شرط جزا سے پہلے ہوتی ہے اور یہاں خدمت آزادی کے بعد ہوگی۔