Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
30 - 1040
حدیث نمبر 30
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ عورت چھپانے کے لائق ہے ۱؎ جب عورت نکلتی ہے تو اسے شیطان گھورتا ہے ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ عورت کے معنی مَایُعَارُفِیْ اِظْھَارِہٖ جس کا ظاہر ہونا قابل عارو شرم ہو عورت کا بے پردہ رہنا میکے والوں کے لیے بھی ننگ و شرم کا باعث ہے اور سسرال والوں کے لیے بھی۔

۲؎ استشراف کے معنی ہیں کسی چیز کو بغور دیکھنا یا اس کے معنی ہیں لوگوں کی نگاہ میں اچھا کردینا تاکہ لوگ اسے بغور دیکھیں۔(مرقات واشعہ)یعنی عورت جب بے پردہ ہوتی ہے تو شیطان لوگوں کی نگاہ میں اسے بھلی کردیتا ہے کہ وہ خوامخواہ اسے تکتے ہیں،مثل مشہور ہے کہ پرائی عورت اور اپنی اولاد اچھی معلوم ہوتی ہے اور پرایا مال اپنی عقل زیادہ معلوم ہوتے ہیں،سرکار کا یہ فرمان بالکل دیکھنے میں آرہا ہے بعض لوگ اپنی خوبصورت بیویوں سے متنفر ہوتے ہیں دوسری بدصورتوں پر فریفتہ۔
Flag Counter