| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی جو اچھی معلوم ہوئی۔۱؎ تو حضور انور بی بی سودہ کے پاس تشریف لائے وہ خوشبو تیار کررہی تھیں اور ان کے پاس عورتیں تھیں انہوں نے خلوت کا موقع دے دیا حضور نے حاجت پوری فرمائی ۲؎ پھر فرمایا جو مرد کسی عورت کو دیکھ لے جو اسے بھلی معلوم ہو تو وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے کہ اس کے پاس بھی وہ ہی ہے جو اس کے پاس ہے ۳؎(دارمی)
شرح
۱؎ یہ نظر اچانک پڑی تھی دیدہ و دانستہ نہ تھی اور پسند آنا غیر ارادی تھا، بہ تقاضاء بشریت یہ پسندیدگی نہ گناہ ہے نہ خطا،جیسے یوسف علیہ السلام کا زلیخا کی طرف میلان طبعی غیر اختیاری رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاۤ اَنۡ رَّاٰبُرْہٰنَ رَبِّہٖ"یقینًا زلیخا نے حضرت یوسف کا قصد کرلیا اور یوسف علیہ السلام نے زلیخا کا یعنی قصد زلیخا اختیاری تھا اور قصد یوسف علیہ السلام غیر اختیاری جو جرم نہیں۔بعض مفسرین نے اس کے معنے کیے کہ یوسف علیہ السلام بھی قصد کرلیتے اگر رب کی دلیل نہ دیکھتے،روزہ دار گرمی کی شدت میں ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی طرف مائل ہوتا ہے مگر پی لینے کا وہم بھی نہیں کرتا لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں۔ ۲؎ غالب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود نے اندازًایہ واقعہ معلوم کرلیا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ حضور نے خود بیان فرمایا ہو چونکہ اس واقعہ میں مسلمانوں کو تقویٰ کی تعلیم کی ہے لہذا اس کا بیان کردینا خلاف غیرت نہیں۔یونانی طبیب تجربہ کے لیے پوشیدہ باتیں بتاتے بھی ہیں کرکے دکھاتے بھی ہیں مردہ کی اندام نہانی میں شگاف دے کر ہر چیز دکھاتے ہیں دیکھو لاہور کے میو ہسپتال کے مردہ گھر کے حالات اس حدیث پر بے شرمی کا اعتراض کرنا چکڑالویوں کی انتہائی بے وقوفی ہے۔ ۳؎ سبحان اﷲ! کیسے نفیس طریقہ سے سمجھایا کہ لذت جماع تو اپنی قوت پر مبنی ہے جس قدر منی غلیظ ہوگی اور مرد میں طاقت زیادہ ہوگی اسی قدر لذت محسوس ہوگی عورت کے حسن کو اس لذت میں دخل نہیں جو لذت اس دیکھی ہوئی عورت سے صحبت کرنے میں ہوتی ہو وہ ہی اپنی بیوی سے صحبت کرنے میں ہے پھر حرام کاری سے منہ کالا کیوں کرتے ہو،آج یہ باتیں سمجھانے کے لیے سیمناؤں میں فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔