Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
299 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر299
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا مجھے ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں پہنچادے ۱؎ فرمایا اگرچہ تو نے کلام مختصر کیا ہے مگر سوال وسیع کیا ۲؎ غلام آزاد کرو اور گردن چھوڑاؤ۳؎ وہ بولا کیا یہ دونوں ایک نہیں ۴؎ فرمایا نہیں غلام آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اس کی آزادی میں اکیلا ہو اور گردن چھوڑانا یہ ہے کہ تو اس کی قیمت میں مدد کرے ۵؎ اور کچھ دودھ خیرات کر ۶؎ اور ظالم قرابتدار پر رجوع کر ۷؎ پس اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو بھوکے کو کھانا دے اور پیاسے کو پانی اور بھلائی کا حکم کر اور برائی سے منع کرو ۸؎ اگر تو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کی حفاظت کر سوائے بھلائی کے ۹؎ (بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی اس عمل کی برکت سے اﷲ تعالٰی مجھے اول سے ہی جنت میں پہنچادے، دوزخ کی سزا دے کر نہ پہنچائے یا اسناد مجازی ہے یعنی وہ عمل جنت میں اولیٰ داخلہ کا سبب ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم دوزخ سے بچاتے ہیں  جنت میں پہنچاتے ہیں ، جب ایک عمل جنت میں پہنچاسکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس عمل سے کہیں افضل ہیں  ضرور پہنچاسکتے ہیں۔

۲؎ یا تو لئن بمعنی وان ہے بمعنی اگرچہ،جیساکہ اشعۃ اللمعات میں اختیار کیا یا لام قسم کا ہے اور ان شرطیہ،اس صورت میں لقد عرضت شرط کی جزاء پہلی صورت میں تو عبارت کے وہ معنی ہیں جو ہم نے عرض کیے،دوسری صورت میں معنی یہ ہیں قسم ہے کہ تو نے اگر کلام چھوٹا کیا ہے تو مسئلہ بڑا پیش کیا ہے حضور نے سائل کی تعریف فرمائی کہ تو کلام چھوٹا کرتا ہے چیز بڑی مانگتا ہے جنتی ہوجانا معمولی بات نہیں،یہ آخری معنی مرقات نے کئے۔

۳؎ یہ ہے اس کی عرض و معروض کا جواب اور لئن الخ جملہ معترضہ ہے نسمہ ن و س کے فتحہ سے بمعنی روح و جان،کبھی نفس و ذات کو بھی کہہ دیتے ہیں یعنی روح والی ذات یہاں اسی معنے میں،اس سے مراد غلام یا لونڈی ہے،یوں ہی رقبہ اگرچہ گردن کو کہتے ہیں مگر مراد ہے گردن والا یعنی انسان۔

۴؎ یعنی حضور نے فرمایا وفك الرقبۃ واؤ عاطفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عتق اور چیز ہے فک اور چیز مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہیں،ممکن ہے کہ واؤ بمعنی او ہو یعنی یا غلام آزاد کر یا پھنسی گردن چھڑا۔

۵؎  سبحان اﷲ! یہ ہے اس سید الکونین افصح العرب کی فصاحت و بلاغت کہ عتق سے مراد ہے آزاد کرنا،آزاد وہ ہی کرے گا جو مالک ہوگا لہذا اس کے معنی ہوئے اپنا غلام آزاد کرنا،اور فک کے بمعنی ہیں پھنسی گردن چھوڑانا یعنی کسی اور کا غلام ہے اس نے اسے مکاتب کردیا ہے،یہ مال ادا کرنے پر قادر نہیں،اس کی گردن پھنسی ہے تواس کی کلی یا بعض قیمت ادا کرکے آزاد کرادے۔

۶؎ منحہ میم کے کسرہ نون کے جزم سے بمعنی عطیہ،اب اس دودھ والے جانور کو منحہ کہتے ہیں۔جو کسی کو دودھ پینے کے لیے عاریۃً دیا جائے اونٹنی یا بکری گائے وغیرہ۔ وکوف و کف سے ہے بمعنی قطرے ٹپکنا،کہا جاتا ہے وکف السقف بارش میں چھت ٹپکی،اس سے مراد بہت دودھ دینے والی اونٹنی بکری وغیرہ ہے جس کا دودھ ٹپکتا ہو زیادتی کی وجہ سے،یہ عبارت مبتداء ہے اس کی خبر خیر پوشیدہ یعنی بہت دودھ والے جانور کا عاریۃً دے دینا بھی بہت ہی اچھا عمل ہے جنت میں پہنچانے والا،یا المنحۃ منصوب ہے فعل پوشیدہ کا مفعول۔

۷؎ یعنی تیرا عزیز قرابتدار اگر تجھ پر ظلم کرے مگر تو اس پر مہربانی سے رجوع کرے یہ بھی جنتی ہونے کا عمل ہے۔(اشعہ)یا جو تیرا عزیز قرابتدار دوسروں  پر ظلم کرے  تو  تو اس  کی قرابت ومحبت واپس کردے  ، اس سے تعلق توڑ دے  تاکہ وہ اس حرکت سے توبہ کرے ،محض قرابتدار ی کی وجہ سے اس کی حمایت نہ کر۔(مرقات)

۸؎ یعنی لوگوں پر ظاہری و باطنی احسان کر،کھانا پانی ظاہری احسان ہے جس سے جسم کی پرورش ہے اور برائی سے روکنا بھلائی کا حکم دینا باطنی احسان جس سے دل و دماغ کی پرورش ہے۔

۹؎ اس طرح کہ زبان سے بری بات جھوٹ غیبت گالی وغیرہ نہ نکالو۔یہاں خیر شر کا مقابل ہے لہذا اس خیر میں جائز و مباح کلام بھی داخل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ بہترین عمل یہ ہے کہ کثرت سکوت،لزوم البیوت،قناعۃ بالقوت الی ان یموت یعنی دراز خاموشی، اکثر گھر میں رہنا،تا حیات تھوڑے پر قناعت کرنا۔
Flag Counter