| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو بن عبسہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو اس لیے مسجد بنائے کہ اس میں اﷲ کا ذکر کیا جائے،تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۲؎ اور جو مسلمان نفس کو آزاد کرےتو وہ اس کا دوزخ سے فدیہ ہوگا۳؎ اور جو اﷲ کی راہ میں بوڑھا ہو ۴؎ تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۵؎(شرح السنہ)۶؎
شرح
۱؎ آپ کی کنیت ابو نجیح ہے،سلمی ہیں، چوتھے مسلمان ہیں، آپ کے فضائل بیان کیے جاچکے ہیں۔ ۲؎ مسجد چھوٹی بنائے یا بڑی،اکیلا بنائے یا دوسروں کے ساتھ مل کر اگر نیت میں اخلاص ہے تو ان شاءاﷲ یہ ہی ثواب ہے،اس سے وقف مسجد مراد ہے نہ کہ گھر کی مسجد جو گھر میں ایک گوشہ نماز کے لیے مخصوص کرلیا جاتا ہے۔ ۳؎ کہ اﷲ اس آزاد کرنے کے سبب اسے دوزخ سے نجات دے گا یہ لازم نہیں کہ اس آزاد کردہ غلام کوضرور دوزخ ہی میں بھیجے،فدیہ سے یہ مراد نہیں۔ ۴؎ اس طرح کہ اپنی ساری زندگی اسلام میں جہاد میں،حج میں،طلب علم میں گزارے،فی سبیل اﷲ بہت عام ہے،معلوم ہوا کہ پرانا مسلمان نو مسلم سے اس لحاظ سے افضل ہے۔ ۵؎ اس طرح کہ اس کا منہ قیامت کے دن نورانی ہوگا اور وہاں کی تاریکیوں سے نجات پائے گا کیونکہ دنیا میں کبھی کفر و معصیت کی تاریکیوں میں نہیں پھنسا۔ ۶؎ خیال رہے کہ یہ حدیث مجموعی طور پر بروایت عمرو ابن عبسہ صرف شرح سنہ میں ہی ہے مگر متفرق طور پر مختلف راویوں سے مسلم،بخاری،ترمذی،احمد،ابن ماجہ،طبرانی،جامع صغیر وغیرہ میں ہے لہذا صاحب مشکوۃ کا صرف شرح سنہ کا حوالہ دینا مجموعی حدیث سے لحاظ سے ہے۔
شرح
۱؎ یعنی جس قسم سے کسی کا حق وابستہ ہو اس میں توریہ یعنی ظاہر معنے کے خلاف کی نیت کرنا درست نہیں لیکن اگر ظالم ظلم کرنے کے لیے ہم سے قسم لے رہا ہے تو وہاں ضرور توریہ کرکے اپنی جان و آبرو بچالے،ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارا کے متعلق فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں یعنی دینی بہن،شاہ مصر کے ظلم سے بچنے کے لیے ہجرت کی راہ میں صدیق اکبر نے ایک کافر کو جواب دیا رجل یھدینی السبیل یہ صاحب(یعنی محمد رسول اﷲ) مجھے راہ دکھانے والے ہیں یعنی راہ خدا دکھانے والے،یہ ہے توریہ،حضرت سوید ابن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہجرت کرکے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روانہ ہوا، میرے ساتھ وائل ابن حجر حضرمی تھے راہ میں دشمن مل گئے میں نے ان سے کہا کہ خدا کی قسم یہ شخص میرا بھائی ہے تاکہ وہ انہیں قتل نہ کر دیں،پھر میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس قسم کا ماجرا عرض کیا، فرمایا تم نے اچھا کیا وائل ابن حجر تمہارے دینی بھائی ہیں۔