| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اچھا ہے ؟ ۱؎ فرمایا اﷲ پر ایمان لانااور اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا ۲؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کون سی گردن افضل ہے ؟ فرمایا زیادہ قیمتی اور مالک کے نزدیک نفیس ۳؎ میں نے عرض کیا کہ اگر میں یہ نہ کرسکوں فرمایا کام والے کی مدد یا بے کار کا کام کر ۴؎ میں نے عرض کیا اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو فرمایا کہ لوگوں کو اپنی شر سے بچائے رکھ ۵؎ کہ یہ بھی صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر صدقہ کرتا ہے ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی دل و دماغ جسم وغیرہ ظاہری باطنی اعضاء کے اعمال صالحہ میں سے کون سا عمل افضل ہے اسی لیے سرکار نے جواب میں دلی عمل یعنی ایمان کا ذکربھی فرمایا۔ ۲؎ ایمان وہ افضل جس پر خاتمہ نصیب ہوجائے ورنہ محض بے کار ہے جیسے ابلیس کا برباد شدہ ایمان اور جہاد میں کفار سے جہاد بھی شامل ہے اور مجاہدات ریاضات بھی داخل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقٰمُوۡا"اور فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا"۔ ۳؎ اس حدیث کی بنا پر امام مالک فرماتے ہیں کہ قیمتی غلام آزاد کرنا افضل ہے اگرچہ کافر ہی ہو مگر حق یہ ہے کہ یہاں مراد قیمتی اور مؤمن غلام مراد ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا۔ ۴؎ یعنی جو محنتی کاروباری آدمی کہ اس کی کمائی اسے کافی نہ ہو،غریب رہتا ہو اس کی بھی مدد کرو اور جو کام کاج کے لائق نہ ہو اس کی بھی دستیگری کرو،بعض نسخوں میں بجائے صانعًا کے ضائعًا ہے یعنی برباد شدہ کی مدد کرو کہ اسے آباد کردو۔ ۵؎ یعنی کوشش کرو کہ تم سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ مصرع مرابہ جز تو امید نیست بدمرساں ۶؎ کہ اس صورت میں تم اپنے کو گناہ سے بچاتے ہو یہ بھی خود اپنے پر احسان و مہربانی ہے کسی پر ظلم کرنا اس پر وقتی طورپر ہوتا ہے خود اپنے پر دائمی ظلم ہے۔شعر پنداشت ستم گر کہ ستم برما کرد برگردن اور بماند و برما بگذشت