| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی بولی کہ میرا خاوند ۱؎ میرے بچے کو لے جانا چاہتا ہے یہ بچہ مجھے پانی پلاتا ہے،مجھے نفع پہنچاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کو چاہے ہاتھ پکڑ لے تو بچے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا وہ اسے لے گئی ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)
شرح
۱؎ یہاں خاوند مجازی معنے میں ہے یعنی جو میرا خاوند تھا ورنہ اب تو یہ عورت مطلقہ ہوچکی تھی۔ ۲؎ اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ حدیث امام شافعی و احمد کی دلیل ہے کہ ہوش مند بچہ کو ان کے ہاں اختیارملتا ہے ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے،ہمارے ہاں نہیں بلکہ چھوٹا جو محتاج پرورش ہو ماں کو ملے گا سمجھ دار بچہ جو حد پرورش سے نکل چکا ہو اور تعلیم و تربیت کا حاجت مند ہو باپ کو ملے گا کیونکہ پرورش ماں اچھی کرتی ہے تربیت باپ،یہ حدیث یا منسوخ ہے اس حدیث سے جو ابھی مذکور ہوئی یہ خصوصی حکم ہے،بہرحال امام اعظم کا قول قوی ہے۔