۱؎ لڑکے سے مراد بالغ لڑکا ہے مجازًا اسے غلام فرمایا گیا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ"یا باہوش سمجھ دار بچہ مراد ہے۔(مرقات)
۲؎ یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے ان کے ہاں سمجھ دار بچے کو اختیار دیا جاتاہے،ہمارے ہاں سات سال کا سمجھ دار بچہ باپ کو ملے گا کیونکہ اب اس کی تربیت و تعلیم کا زمانہ ہے یہ کام باپ ہی کرسکتا ہے،ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں باپ نماز کا حکم اسے جب ہی دے سکتا ہے جب بچہ اس کی پرورش میں ہو ہمارے ہاں یہ حکم خصوصی یا منسوخ ہے۔