Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
296 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر296
روایت ہے حضرت ہلال ابن اسامہ رضی اللہ عنھما سے وہ ابو میمونہ سلیمان سے راوی ۱؎ جو اہلِ مدینہ کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت فارسی ان کے پاس آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا اور اسے اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ان دونوں نے بچہ کا دعویٰ کیاعورت نے فارسی میں کلام کیا ۲؎ بولی اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچے کو لے جائے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو آپ نے فارسی میں یہ فرمایا ۳؎ پھر اس کا خاوند آیابولا کہ میرے بچہ میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے۴؎ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا الٰہی میں نہیں کہتا ۵؎ مگر اس لیے کہ میں بیٹھا ہوا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہ آپ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اﷲ میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بچہ کو لے جائے ۶؎ حالانکہ یہ بچہ مجھے آرام پہنچاتاہے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی پلاتا ہے ۷؎  اور نسائی کے ہاں کہ میٹھا پانی پلاتا ہے ۸؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر تم دونوں قرعہ ڈال لو تو خاوند بولا میرے بچہ کے متعلق مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ۹؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ تیرا باپ ہےاور یہ تیری ماں ہے تو ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑلیا ۱۰؎(ابوداؤد،نسائی)لیکن نسائی نے مسند کا ذکر کیا اور دارمی نے ہلال ابن اسامہ سے روایت کی۔
شرح
۱؎ ہلال ابن اسامہ تبع تابعی ہیں،ثقہ ہیں اور ابومیمونہ تابعی ہیں،ان کے نام میں اختلاف ہے یا سلمان ہے بغیر ی کے یا سلیمان ہے ی کے ساتھ یا سلیم ہے یا سلمہ یا اسامہ،صاحب مشکوۃ کے نزدیک سلیمان ہے ی سے،خیال رہے کہ ہلال کے والد کا نام علی ابن اسامہ ہے تو اسامہ ہلال کے دادا ہیں،یہاں دادا کی طرف منسوب ہیں قبیلہ بنی فہر سے ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۲؎ رطنت رطانۃٌ سے رطانۃٌ وہ کلام کرنا جو عام طور پر سمجھا نہ جاسکے یعنی غیر ملکی زبان میں گفتگو اسی لیے عرب لوگ عجمی بول چال کو رطانۃ کہتے ہیں،یہاں فارسی گفتگو مراد ہے کہ عرب کے لیے وہ غیر ملکی زبان ہے۔غالب یہ ہے کہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے یہ عورت مدینہ منورہ میں رہتی تھی مگر گفتگو فارسی میں کرتی تھی یا عربی فارسی ملی جلی بولتی تھی۔

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ رطن کا فاعل جناب ابوہریرہ ہیں مدینہ منورہ میں فارسی لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے صحابہ کرام فارسی سمجھ بھی لیتے تھے اور کچھ بول بھی لیتے تھے جیسے آج وہاں کے باشندے عمومًا اردو بولتے سمجھتے ہیں،بعض نے فرمایا کہ درمیان میں ترجمان تھا رطن کا فاعل وہ ترجمان ہی ہے۔

۴؎ یعنی اس کے خاوند کو دعویٰ کا پتہ چلا تو جواب دعویٰ کے لیے وہ حضرت ابوہریرہ کے پاس آیا جب کہ اس کی بیوی وہاں ہی موجود تھی اس کا کہنا یہ تھا کہ قرعہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے بچہ باپ کا ہوتا ہے کہ اس سے نسب چلتا ہے لہذا میں ہی اس کا مستحق ہوں۔

۵؎ آپ کا اللّٰہم فرمانا رب تعالٰی کو گواہ بنانے کے لیے تھا گویا ایک طرح کی قسم تھی یعنی خدایا تو گواہ ہے میں تیری قسم کھاتا ہوں۔

۶؎ یعنی آج کا یہ واقعہ بالکل اسی واقعہ کی مثل ہے جو بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا تھا وہ ہی صورت ہے وہ ہی نوعیت۔

۷؎  عنبہ عین کے کسرہ نون و ب کے زبر سے کوئی خاص کنواں تھا مدینہ منورہ میں جس کا پانی بہت اچھا تھا اب وہ کنوان نہیں،مقصد یہ ہے کہ اگر یہ بچہ میرے پاس نہ رہا تو مجھے کوئی پانی لا کر دینے والابھی نہیں ہے،مجھے اس بچہ کی سخت ضرورت ہے۔

۸؎ عذب الماء میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے،اصل میں ماء عذب تھا۔

۹؎  یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ پر ناراضی نہیں بلکہ اپنی مطلقہ بیوی پر ناراضی ہے لہذا اس شخص کوا س عرض معروض پر کافر یا مجرم نہیں کہہ سکتے مقدمہ میں فریقین اپنے دلائل بیان کیا ہی کرتے ہیں۔

۱۰؎ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بچہ کو اختیار دے کر بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی کہ مولیٰ بچہ اسی کو اختیار کرے جس کے پاس رہنا بچہ کو مفید ہو۔ابوداؤد میں کتاب الطلاق میں اور نسائی نے کتاب الفرائض میں عبدالحمید ابن جعفر عن ابیہ عن جدہ رافع ابن خدیج سے روایت کی کہ میں مسلمان ہوگیا اور میری بیوی کافرہ رہی،اسلام سے انکاری ہوگئی،تب اسی بچہ کا واقعہ پیش ہوا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے باپ کو علیٰحدہ بٹھایا ماں کو علیٰحدہ اور بچہ کو اختیار دیا اور دعا کی الٰہی اس بچہ کو توفیق دے کہ اپنے باپ کو اختیار کرے پھر فرمایا کہ دونوں اس بچہ کو بلاؤ،چنانچہ ان دونوں نے بلایا تو بچہ نے باپ کو اختیار کیا۔دارقطنی نے فرمایا کہ یہ بچی تھی اور اس کا نام عمیرہ تھا مگر یہ واقعہ دوسرا ہوگا کیونکہ بالغہ لڑکی کو پردہ کی بنا پر اور چھوٹی بچی کو کنویں پر گر جانے کے خطرہ سے کنویں میں نہیں بھیجا جاتا،صحابہ کرام نے بچہ کو اختیار نہ دیا۔(مرقات)
Flag Counter