Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
288 - 1040
حدیث نمبر288
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب قیدی لائے جاتے تو آپ سارے گھر والے ایک کو اکٹھے دیتے ۱؎ یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ ان میں جدائی ڈالیں ۲؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اہل البیت اعطی کا مفعول اول ہو اور مفعول دوم پوشیدہ یعنی غلاموں کا پورا کنبہ ماں بچے بھائی بہن وغیرہ ایک ہی مسلمان کو عطا فرماتے،یہ نہ کرتے کہ ماں کسی کو بچہ کسی کو۔دوسرے یہ کہ اھل البیت مفعول دوم ہو اور اعطی کا پہلا مفعول وہ قیدی ہوں جو ابھی مذکور ہوئے یعنی وہ قیدی ایک گھر والے مؤمن کو عطا فرماتے پہلے معنے اشعۃ اللمعات نے اختیار کیے،دوسرے معنی مرقات نے،مقصد ایک ہی ہے کہ قیدی غلاموں کو اکٹھا رکھتے۔

۲؎ یہ عمل شریف اس صورت میں تھا کہ ان قیدیوں میں بعض بہت چھوٹے ناسمجھ بچے ہوتے کہ جدائی ڈالنے سے ان کی پرورش مشکل ہوجاتی اور ماں کو تکلیف ہوتی، جوان لونڈی غلاموں میں علیحدگی کرنا جائز ہے، اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔
Flag Counter