۱؎ یا تو بخل کی وجہ سے اکیلا کھائے بچے اور گھر والے اس کا منہ تکیں اور یہ عمدہ غذائیں اکیلا کھائے انہیں معمولی کھلائے،یا تکبر و غرور کی وجہ سے کسی کے ساتھ کھانا گوارا نہ کرے،اگر غربت و ضرورت کی وجہ سے ا کیلا کھائے تو ممنوع نہیں،ایک شخص گھر کا بوجھ اٹھاتاہے،محنت کرتا ہے اس لیے کچھ مقوی غذا کھاتا ہے تاکہ کام کاج کرسکے، وہ چیز ہے تھوڑی سی سب کو کافی نہیں تو مضائقہ نہیں،اس صور ت میں علیحدگی میں کھانا چاہیے سب کے سامنے کھانا بے مروتی ہے۔(ازمرقات مع زیادت)
۲؎ یعنی بے قصور غلاموں ماتحتوں کو مارے پیٹے اور گھر والے مہمانوں اور نوکروں کو ان کا حق نہ دے،بخیل بھی ہو بدخلق بھی اسے بدترین اس لیے فرمایا گیا کہ بندوں کے حقوق مارتا ہے رب تعالٰی کی نافرمانی کرتا ہے۔