روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں جب اﷲ تعالٰی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو اچھا ہو ۱؎ اور یہ فرمان نازل ہوا کہ جو لوگ ظلمًا یتیموں کا مال کھاتے ہیں ۲؎ تو جن کے پاس یتیم تھے وہ چلے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے علیحدہ کردیاتو جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ رہتا تو اسی کے لیے رکھ لیتےحتی کہ یا تو یتیم کھا پی لیتا یا وہ چیز بگڑ جاتی ان لوگوں پر یہ بہت گراں گزرا ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے انہوں نے یہ عرض کیا ۴؎ تب یہ آیت اللہ نے اتاری کہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں فرما دو ان کی اصلاح بہتر ہے اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں تب انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے ملایا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ قریب جانے سے منع فرمانا مبالغہ کے لیے ہے یعنی یتیم کا مال کھانا تو در کنار اس کے قریب بھی نہ جاؤ اسے ہاتھ بھی نہ لگاؤ جیسے رب تعالٰی نے حضرت آدم و حوا سے فرمایا تھا کہ اس درخت کے قریب بھی نہ جانا۔ ۲؎ اگرچہ آیت کریمہ میں ظلمًا کی قید تھی مگر صحابہ کرام نے خوف الہٰی کے باعث ادھر نظر ہی نہ کی وہ سمجھے کہ شاید یتیم کا مال ملانے کی صورت میں اس کا جو ٹکڑا یا قطرہ ہمارے پیٹ میں پہنچ جائے وہ بھی آگ ہی ہو یا ہم اسے ظلم نہ سمجھیں اور واقعہ میں وہ ظلم ہو لہذا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرات صحابہ کلام الہٰی کے منشاء سے بے خبر تھے تقویٰ کچھ اور ہی چیز ہے۔ ۳؎ اس صورت میں یتیم کا خرچہ بھی زیادہ ہونے لگا اور ان کے والیوں کو تکلیف بھی زیادہ کیونکہ ایک آدمی کے لیے الگ کھانا پکانے میں بہت خرچہ پڑتا ہے اور کام بھی دوگنا ہوجاتا ہے خصوصًا جب کہ نمک مرچ لکڑی وغیرہ الگ رکھی جائے پھر بچی چیز سنبھالنا،خراب ہوجانے پر پھینکنا تکلیف دہ ہے۔ ۴؎ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو جو کچھ رب تعالٰی سے عرض کرنا ہوتا وہ حضور سے عرض کرتے تھے،حکم قرآن کی وجہ سے ان کو دشواری ہوئی تو بارگاہ رسالت میں آکر زاری کی اور رب تعالٰی بھی اس عرض و معروض پر انکی دادرسی فرماتا تھا۔ ۵؎ مطلب یہ ہے کہ یتیم کا مال برے ارادے سے ظلمًا کھانا ممنوع ہے تم اس حکم سے خارج ہو کہ تمہاری نیت اصلاح ہے۔اس آیت کی بنا پر علماء نے فرمایا کہ اگر سفر میں کوئی ساتھی بیمار یا فوت ہوجائے تو دوسرے ساتھی اس کا مال اس کے علاج یا کفن دفن پر خرچ کرسکتے ہیں، حضرت امام محمد سے کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ حج کو جارہے تھے کہ ایک ساتھی فوت ہوگیا ہم نے اس کا مال فروخت کردیا اس کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو فقیہ نہ ہوتے،اس وقت مصلحت اسی میں تھی ورنہ اس کا وزنی مال و اسباب برباد ہوجاتا، خود امام محمد نے اپنے ایک شاگرد کی کتابیں فروخت کرکے اس کے کفن و دفن پر خرچ کیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس نے مرتے وقت اس کی وصیت تو نہ کی تھی آپ نے یہ ہی آیت پڑھی" وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ"۔(مرقات و فتح القدیر)