Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
285 - 1040
حدیث نمبر285
روایت ہے حضرت سہیل ابن حنظلیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ پر گزرے،جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی ۲؎  تو فرمایا ان بے زبان جانوروں میں اﷲ سے ڈرو۳؎  ان پر سوار ہو جب وہ لائق سواری ہوں ۴؎ اور انہیں چھوڑ دو لائق سواری کی حالت میں ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ سہیل کے والد کا نام ربیع ابن عمرو ہے،حنظلیہ یا تو ان کی پردادی کا نام ہےیا ان کی ماں کا نام،حضرت سہیل بیعتہ الرضوان میں شریک تھے،گوشہ نشین عابد تھے،شام میں قیام رہا،امیر معاویہ کی شروع خلافت میں دمشق میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)

۲؎ یعنی سخت بھوک و پیاس کی وجہ پیٹ پیٹھ سے لگ گیا تھا۔

۳؎ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے بے زبان جانور کسی سے فریاد بھی نہیں کرسکتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا چارہ پانی مالک پر واجب ہے،بعض آئمہ کے ہاں ظالم مالک کو حاکم جانور فروخت کردینے پر مجبور کرسکتا ہے۔

۴؎ یعنی جو جانور سواری کے لائق ہو اس پر سوار ہو،بیمار اور کمزور،چھوٹے بچے پر نہ سواری کرو نہ بوجھ لادو،یہ ہے اسلامی عدل و انصاف اور یہ ہے حضور کی رحمت علی الخلق،آج حکومتیں جانوروں کے متعلق قوانین بناتی ہیں ظالم مالکوں کا چالان کرتی ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۵؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جانور کو بالکل تھکا کر نہ چھوڑو بلکہ ابھی اس میں قوت ہو کہ اسے کھول دو کہ وہ دانہ پانی کھا پی لیں اس سے جانور کی تندرستی اور قوت خراب نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ جانور کو بوڑھا ناکارہ کرکے محنت سے آزاد نہ کرو بلکہ ابھی اس میں کچھ طاقت ہو کہ اس سے کام لینا موقوف کردو،گائے،بھینس وغیرہ ہے تو انہیں ذبح کرادو، گھوڑا وغیرہ ہے تو اسے کام سے آزاد کردو،کچھ کھانا جاری رکھو اس سے اﷲ تعالٰی تم پر رحم فرمائے گا اور تمہارے گھر میں برکت دے گا یہ بہت آزمایا ہوا عمل ہے۔بعض لوگ بوڑھے جانور کو نکالتے نہیں بلکہ کام سے آزاد کردیتے ہیں،کھانا پانی جاری رکھتے ہیں،یہ ہی غلاموں،نوکروں سے برتاؤ کرو بوڑھے نوکروں کو پنشن دی جاتی ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔شعر

رسم است کہ مالکان تحریر	آزاد    کنند     بندہ      پیر

اے بار  خدا   عالم       آرا	برسعدی پیر خود بہ بخشا
Flag Counter