۱؎ لائم یلائم باب مفاعلہ سے ہے ملائمۃ بمعنی موافقت اسی سے ہے ملائم بمعنی موافق،ملائمۃ بمعنی موافقت و مناسبت یعنی جس غلام کی طبیعت تم سے مل جائے وہ تمہارے مزاج کے موافق و مناسب ہو۔
۲؎ یعنی ایسے غلام کی قدر کرو جو تمہاری خدمت میں کوتاہی نہیں کرتا تم اس کی خاطر مدارات میں کمی نہ کرو،موافق انسان مشکل سے ملتا ہے مردم شناسی بڑا جوہر ہے جس گھر میں مردم شناسی نہ ہو وہ گھر ویران ہوجائے گا اور جس ملک میں مردم شناسی نہ ہو وہ ملک برباد ہوجائے گا۔عہد فاروقی اور صدیقی میں مردم شناسی تھی جس سے ملک و ملت میں رونق لگ گئی اپنے کھانے و لباس میں سے اسے کھلانا پہنانا حکم استحبابی ہے جس سے غلام خوش ہو کر اور زیادہ خدمت کرے گا۔
۳؎ یعنی اسے اپنے پاس رکھو، مت مارو پیٹو کہ اس سے تم کو بھی تکلیف ہوگی اس کو بھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ ہی حکم موافق اور نا موافق جانور کا ہے کہ پسند آئے تو اس کی خدمت کرو نرمی سے کام لو، ناپسند ہو تو فروخت کردو۔