Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
283 - 1040
حدیث نمبر283
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہواعرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم خادم کو کتنی بار معافی دیں حضور خاموش رہے ۲؎ اس نے پھر وہ سوال دہرایا  آپ خاموش رہے  پھر جب تیسری بار سوال ہوا۳؎ تو فرمایا اسے ہر دن میں ستر بار معافی دو۴؎(ابوداؤد)ترمذی بروایت عبداﷲ ابن عمرو ۵؎
شرح
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں عبداﷲ ابن عمرو واؤ کے ساتھ ہے مگر صحیح عبداﷲ ابن عمر کی یہ روایت ہے۔

۲؎ یا تو اس لیے خاموش رہے کہ اس کا یہ سوال پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات پوچھنے کی نہیں نفسیاتی چیز ہے کہ اگر زیادہ معافی دینے سے غلام بگڑتا ہے تو کبھی کچھ سرزنش کردو،یا اس لیے خاموش رہے کہ وحی الہٰی کا انتظار تھا یا اس لئے خاموشی اختیار فرمائی تاکہ حضور کا جواب سائل کے دل میں بیٹھ جائے کہ جو چیز بہت انتظار کے بعد ملتی ہے اس کی قدر ہوتی ہے۔فقیر کے نزدیک یہ تیسری وجہ قوی ہے،اشعہ و مرقات نے پہلی دو وجہیں بتائیں۔

۳؎ یہ تینوں بار سوال ایک ہی مجلس میں ہوئے،بعض شارحین نے ثم  سے سمجھا کہ ان سوالوں میں کئی دن کا فاصلہ تھا کہ وہ شخص دوچار دن کے وقفہ سے آتا اور یہ سوال کرتا تھا  مگر یہ صحیح نہیں  ثم اسی لیے کہا گیا کہ سائل نے کچھ دیر جواب کا انتظار دیکھ کر پھر سوال کیا مسلسل نہ کیا۔

۴؎ عربی میں ستر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ مافی دو،یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہو خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو شریعت کا یا قوی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصور معاف نہیں کیئے جاتے ۔

۵؎ یہ حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں، ابن یونس نے تاریخ مصر میں بھی نقل فرمائی،بخاری نے اپنی تاریخ میں عباس ابن خلہد کی اسناد سے نقل کی اور فرمایا کہ اس کی اسناد میں اضطراب ہے۔(مرقات)
Flag Counter